ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

آغا سید روح اللہ مہدی کا ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے نام مکتوب ،آرٹیکل 370 پر مؤقف واضح کرنے کا مطالبہ

’اگر آرٹیکل 370 کی بحالی کا وعدہ پورا نہیں کرنا تھا تو منشور میں اسے شامل کیوں کیا؟‘

سرینگر/نیشنل کانفرنس کے رکنِ پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی نے پارٹی کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے حالیہ بیان پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں ایک خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے آرٹیکل 370، جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت اور اپنے سیاسی مؤقف سے متعلق متعدد سوالات اٹھائے ہیں۔
آغا سید روح اللہ مہدی نے خط میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے 25 اگست کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں ان سے کہا گیا تھا کہ ’’آپ کب تک غلام بنے رہیں گے؟ کبھی اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی کوشش کریں۔‘‘انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خود ارادیت اور آئینی حقوق کی بات کرتے ہوئے ان سے بی جے پی کے حوالے سے مؤقف اختیار کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا بیان محض ’’عوامی استعمال کیلئے ہلکی پھلکی سیاسی پوزیشننگ‘‘ہے اور عملی سیاست اس سے مختلف ہے تو یہ ان کے لیے ذاتی طور پر مایوس کن ہوگا۔
آغا روح اللہ نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا کہ ’’آپ کے پاس 370 تھا، لیکن آپ دہلی سے دور تھے۔‘‘انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر بی جے پی کی جانب سے آرٹیکل 370 کو ختم کرنا ہی ’’بیگننگ‘‘تھا تو پھر بی جے پی کے 2024 کے انتخابی منشور میں آرٹیکل 370 کی بحالی کا وعدہ کیوں شامل کیا گیا تھا؟انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ ایسے وعدے تھے جنہیں پارٹی جانتی تھی کہ وہ پورا نہیں کرسکتی، یا حکومت بنانے کے بعد ان وعدوں کو بھلا دینا ہی مقصود تھا؟
آغا روح اللہ نے کہا کہ اگر ایسا تھا تو یہ محض سیاسی غلطی نہیں بلکہ ایک پوری آبادی کو دانستہ طور پر گمراہ کرنے کے مترادف ہے، جس نے کئی دہائیوں کی مشکلات کے باوجود امید اور اعتماد کے ساتھ ووٹ دیا۔
انہوں نے اپنے خلاف پارٹی صدر اور دیگر افراد کی جانب سے ہونے والی تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس ’’جھوٹ‘‘کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے سیاسی مؤقف کو غیر عملی قرار دیا جاتا ہے، لیکن آرٹیکل 370 کی بحالی دراصل جموں و کشمیر کے عوام کے وقار، عزت، آئینی ضمانتوں اور آزادیوں کی جدوجہد کی علامت ہے۔

آغا روح اللہ نے جموں و کشمیر کے نوجوانوں، روزگار، زمین، وسائل، مذہبی حقوق، روایات، زبان اور ماحولیات سے متعلق مسائل بھی خط میں اجاگر کیے۔ انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مفادات اور آئینی حقوق کے تحفظ کیلئے جدوجہد کریں، نہ کہ اپنے مطالبات کو اس حد تک محدود کردیں جتنا بی جے پی دینے کیلئے تیار ہو۔انہوں نے واضح کیا کہ اگست 2019 کے واقعات کو سیاسی معمول بننے سے روکنا ضروری ہےاور ریاستی درجہ کی بحالی کو ان حقوق کا متبادل نہیں سمجھا جاسکتا جو جموں و کشمیر سے چھین لیے گئے۔
آغا روح اللہ نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو یاد دلایا کہ وہ اسی اسمبلی کے وزیرِ اعلیٰ رہ چکے ہیں جس نے خودمختاری کی قرارداد (Autonomy Resolution)منظور کی تھی۔ انہوں نے سوال کیا کہ جموں و کشمیر کیلئے آئینی ضمانتوں کا محض ذکر اب اتنا ناگوار کیوں ہوگیا ہے کہ انہیں عوامی طور پر استعفیٰ دینے کا مطالبہ کرنا پڑا؟انہوں نے کہا کہ ان کے سامنے ابھی بہت سے سوالات ہیں، تاہم وہ فی الحال ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے جواب کا انتظار کریں گے۔ ان کے مطابق جموں و کشمیر کے عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ نیشنل کانفرنس حقیقت میں کن اصولوں پر کھڑی ہے۔
آغا روح اللہ نے مزید کہا کہ ’’استعفیٰ آ جائے گا، آپ کے مطالبے کے بغیر بھی آجاتا، لیکن اس سے پہلے جواب دہی ضروری ہے۔‘‘خط کے اختتام پر انہوں نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے اس سوال کا بھی جواب دیا کہ ’’آپ نیشنل کانفرنس سے پہلے کیا تھے؟‘‘آغا روح اللہ نے کہا کہ وہ ایک طویل شہادت کی روایت کے وارث اور ایک شہید کے بیٹے ہیں، اور شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کبھی نیشنل کانفرنس کا حصہ بننے کی درخواست نہیں کی؛ بلکہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے خود انہیں پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی۔انہوں نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے کہا کہ آئندہ ان کے پس منظر پر کوئی عوامی حملہ کرنے سے قبل اس حقیقت کو ضرور یاد رکھیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں