رہائشی علاقے میں جنگلی جانوروں کی موجودگی پر انتظامیہ کا سرچ آپریشن، شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت
اسلام آباد گلبرگ گرینز میں بنگال ٹائیگر کی موجودگی کی اطلاع پر سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے
اسلام آباد کے علاقے گلبرگ گرینز کے بلاک بی کی اسٹریٹ 15 میں جمعرات کی شام ا ایک بنگال ٹائیگر اور اس کے دو بچوں کو دیکھا گیا جس کے بعد وہاں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور ہاؤسنگ سوسائٹی کی سیکیورٹی مینجمنٹ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔
اس منظر کی تصدیق گلبرگ گرینز کی سیکیورٹی مینجمنٹ اور رہائشیوں نے کی اور یہ خبر جلد ہی کمیونٹی گروپس میں موضوع بحث بن گئی کیونکہ ٹائیگر اور اس کے بچوں کی تصاویر اور ویڈیوز بڑے پیمانے پر گردش کرنے لگیں جس کے بعد پریشان خاندانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ گھروں کے اندر ہی رہیں۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے میں گشت بڑھا دیا اور رہائشیوں بالخصوص بچوں کو مشورہ دیا کہ جب تک صورتحال قابو میں نہیں آ جاتی وہ باہر نہ نکلیں۔
سیکیورٹی کے ایک اہلکار نے کمیونٹی گروپس میں شیئر کیے گئے ایک پیغام میں رہائشیوں کو بتایا کہ ہم ہائی الرٹ پر ہیں اور ہماری ٹیمیں علاقے کی باریک بینی سے نگرانی کر رہی ہیں، رہائشیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اندر رہیں اور جانوروں کی کسی بھی نقل و حرکت یا نظر آنے کی اطلاع فوری طور پر دیں۔
سیکیورٹی کے ایک اور اہلکار نے کہا کہ سیکیورٹی ٹیمیں صورتحال سے مکمل طور پر نبرد آزما ہیں اور رہائشیوں کو کسی بھی خطرے سے بچانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کر رہی ہیں۔ گلبرگ گرینز میں ایک بڑے جانور کی موجودگی کی اطلاعات کے بعد اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے ایک مکمل سرچ آپریشن کیا جس کے دوران کوئی ثبوت نہیں ملا۔ ہم علاقے کی نگرانی جاری رکھیں گے۔ درخواست ہے کہ پرسکون رہیں اور جنگلی حیات کے نظر آنے کی کوئی بھی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔ اس غیر معمولی منظر نے رہائشیوں کے گروپس میں تشویش کی لہر دوڑا دی اور خاندانوں نے اپنے بچوں کی حفاظت کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا اور سوال اٹھایا کہ ایک خطرناک جنگلی جانور ایک آباد رہائشی علاقے تک کیسے پہنچ گیا۔
Following reports of a big cat in Gulberg Greens,IWMB & @CDAthecapital & @dcislamabad conducted a full search operation.
✅ No evidence found.
We’ll keep monitoring the area.
Request: Stay calm & report any wildlife sightings to relevant authorities. pic.twitter.com/A0WsCTfoKo— Islamabad Wildlife Management Board (IWMB) (@WildlifeBoard) September 3, 2026
ایک رہائشی نے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کو بتایا کہ ہم انتہائی پریشان ہیں بالخصوص بچوں کے لیے، کوئی نہیں جانتا کہ ٹائیگر آگے کہاں جا سکتا ہے اس لیے خاندان گھروں کے اندر ہی رہ رہے ہیں۔ ایک اور رہائشی سید حسنین نے اے پی پی کو بتایا کہ انہوں نے رہائشی برادریوں میں خطرناک اور غیر ملکی جانوروں کو پالتو جانوروں کے طور پر رکھنے کے رواج پر سوال اٹھایا اور کہا کہ یہ واقعہ حکام کے لیے سخت ضابطے نافذ کرنے کی ایک بیداری کی گھنٹی ثابت ہونا چاہیے۔
ایک اور رہائشی نے کمیونٹی گروپ میں پوچھا کہ اگر رہائشی علاقے میں خطرناک جنگلی جانور رکھے جا سکتے ہیں تو رہائشی خود کو کیسے محفوظ محسوس کر سکتے ہیں۔ اس منظر نے رہائشیوں کو ایک دوسرے کو یہ خبردار کرنے پر بھی مجبور کیا کہ وہ ٹائیگر کی تلاش میں باہر نہ نکلیں یا تصاویر اور ویڈیوز بنانے کے لیے بتائی گئی جگہ کے ارد گرد جمع نہ ہوں۔ ٹائیگر اور دو بچوں کی موجودگی نے نجی گھروں میں خاص طور پر گنجان آباد ہاؤسنگ اسکیموں میں غیر ملکی اور ممکنہ طور پر خطرناک جانوروں کو رکھنے سے وابستہ خطرات کے بارے میں نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تاہم گلبرگ گرینز کے خاندانوں کے لیے فوری تشویش کا مرکز سلامتی ہی رہا اور رہائشیوں نے دروازے اور پھاٹک بند رکھے اور سیکیورٹی اپ ڈیٹس پر گہری نظر رکھی کیونکہ ٹیمیں الرٹ رہیں۔