سری نگر/جموں و کشمیر کے انٹرن ڈاکٹروں کا ایک تازہ وفد منگل کو وزیر صحت سکینہ ایتو سے دوبارہ ملاقات کرے گا، جس دوران ماہانہ وظیفے میں اضافے کے مطالبے کو اٹھانے کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے باضابطہ سرکاری حکم نامہ جاری کرنے پر زور دیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جموں و کشمیر بھر میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرن ڈاکٹروں کا احتجاج جاری ہے۔ انٹرن ڈاکٹروں کا مطالبہ ہے کہ موجودہ 30 ہزار روپے ماہانہ وظیفے میں اضافہ کیا جائے۔ احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت کی جانب سے وظیفے میں اضافے کی باضابطہ منظوری اور نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جاتا، ان کا احتجاج جاری رہے گا۔
جموں کی نمائندگی کرنے والے دو انٹرن ڈاکٹر اس وقت سری نگر کی جانب روانہ ہیں تاکہ وزیر صحت کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں شرکت کر سکیں۔
آل انڈیا میڈیکل اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AIMSA) کے ایڈیشنل سیکریٹری ڈاکٹر شہنواز اور عمیر جموں کی جانب سے وفد میں شامل ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات تقریباً شام 4 بجے متوقع ہے۔
یہ ملاقات اس لیے بھی اہمیت رکھتی ہے کہ انٹرن ڈاکٹروں کے نمائندوں نے چند روز قبل بھی وزیر صحت سکینہ ایتو سے ملاقات کرکے اس معاملے پر بات چیت کی تھی۔ اس ملاقات کے دوران وزیر صحت نے حکومت کو معاملہ مکمل طور پر حل کرنے اور کارروائی آگے بڑھانے کے لیے ایک ماہ کا وقت مانگا تھا۔
تاہم انٹرن ڈاکٹروں نے حکومت کی جانب سے دی گئی اس مدت سے اتفاق نہیں کیا اور اپنے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا کہ انہیں مزید یقین دہانی یا انتظار کے بجائے فوری طور پر تحریری سرکاری حکم نامہ چاہیے۔
انٹرن ڈاکٹروں کے نمائندوں نے کہا،ہمیں آج کی ملاقات سے مثبت نتیجے کی امید ہے۔ ہمارا مطالبہ بالکل واضح ہے کہ وظیفے میں اضافے کی باضابطہ منظوری دی جائے اور اس سلسلے میں سرکاری حکم نامہ جاری کیا جائے۔