ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ساولکوٹ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ: ٹیکنیکل بولی میں پانچ بڑی کمپنیوں کی شارٹ لسٹنگ، منصوبے میں پیش رفت

محمد تسکین
بانہال/مجوزہ 1800 میگاواٹ ساولکوٹ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے لاٹ-I کی ٹیکنیکل بولیاں بدھ کے روز کھولی گئیں، جس کے بعد پانچ بڑی انفراسٹرکچر کمپنیوں کو شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ طویل عرصے سے زیر التوا اس اہم منصوبے کی جانب اسے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹیکنیکل بولی کے مرحلے میں شارٹ لسٹ ہونے والی کمپنیوں میں اڈانی انفرا انڈیا لمیٹڈ، ہندوستان کنسٹرکشن کمپنی لمیٹڈ، لارسن اینڈ ٹوبرو لمیٹڈ، پٹیل انجینئرنگ لمیٹڈ اور رتھوک پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ شامل ہیں۔
اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے ساولکوٹ جوائنٹ ایکشن کمیٹی (SJAC) کے صدر ایڈووکیٹ فیروز خان نے رام بن کے عوام اور کمیٹی کے ارکان کو منصوبے سے متعلق مسائل پر مسلسل جدوجہد اور تعاون کے لیے مبارکباد پیش کی۔
فیروز خان نے کہا کہ ٹیکنیکل بولیوں کا کھولا جانا ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم اب ٹینڈرنگ کے عمل کو مزید تاخیر کے بغیر آگے بڑھایا جانا چاہیے اور حکومت کو منصوبے کی تکمیل کے لیے ایک واضح اور حتمی ٹائم لائن کا اعلان کرنا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ SJAC ترقی یا قومی تعمیر کے خلاف نہیں ہے، تاہم کمیٹی چاہتی ہے کہ منصوبے سے متاثر ہونے والے لوگوں کے حقوق اور مفادات کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ منصوبے کے زیرِ آب آنے والے علاقے کا تقریباً 88 فیصد حصہ ضلع رام بن میں واقع ہے، اس لیے مقامی لوگوں کی شمولیت اور ان کے مفادات کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔
SJAC صدر نے تمام متاثرہ زمین مالکان کو Right to Fair Compensation and Transparency in Land Acquisition, Rehabilitation and Resettlement Act, 2013 کے تحت منصفانہ اور بروقت معاوضہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے منصوبے سے متعلق روزگار، ٹھیکوں اور خدمات میں ضلع رام بن کے مقامی نوجوانوں کو ترجیح دینے کے ساتھ ساتھ بے گھر ہونے والے خاندانوں کے لیے جامع بحالی اور آبادکاری پیکیج کا بھی مطالبہ کیا، جس میں ذریعۂ معاش اور اجرت کا تحفظ شامل ہو۔
فیروز خان نے سڑک رابطوں اور سڑکوں کی ممکنہ منتقلی سے متعلق منصوبوں پر بھی وضاحت طلب کی۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کے نتیجے میں متاثر ہونے والے بنیادی ڈھانچے کے بارے میں عوام کو شفاف اور بروقت معلومات فراہم کی جانی چاہئیں۔
انہوں نے پہلے حاصل کی گئی لیکن اب تک غیر استعمال شدہ زمین کا بھی جائزہ لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ایسی زمین یا تو اصل مالکان کو واپس کی جائے یا قانون کے مطابق دوبارہ مناسب معاوضہ دیا جائے۔
کمیٹی نے ماحولیاتی اور سماجی تحفظ کے مؤثر اقدامات پر بھی زور دیا تاکہ منصوبے کی تعمیر سے مقامی ماحولیات اور آبادی پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔
فیروز خان نے کہا، “ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن کھوکھلے وعدے قبول نہیں کریں گے۔” انہوں نے زور دیا کہ رام بن کو منصوبے میں ایک حقیقی اسٹیک ہولڈر کے طور پر دیکھا جائے، نہ کہ قربانی کا علاقہ سمجھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ SJAC رام بن کے عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنے مطالبات کو پُرامن اور قانونی طریقوں سے اٹھاتی رہے گی اور حکومت و منصوبے سے متعلق حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے متاثرہ لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں