سری نگر/جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں منگل کے روز اس وقت شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جب نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی عبدالمجید لَارمی نے کہا کہ حکومت کو یا تو شیخ محمد عبداللہ کی سالگرہ کے موقع پر سرکاری تعطیل بحال کرنی چاہیے یا پھر مہاراجہ ہری سنگھ کی سالگرہ کی تعطیل بھی ختم کر دینی چاہیے۔کارروائی شروع ہوتے ہی لَارمی کے بیان پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ارکان نے شدید احتجاج کیا۔ بی جے پی ارکان نے الزام عائد کیا کہ این سی ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔
بی جے پی رکن اسمبلی آر ایس پٹھانیا نے کہا، ’’حکمران جماعت کارروائی میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہ تعطیل ختم کرنے کی بات کیسے کر سکتے ہیں؟‘‘اس دوران بی جے پی ارکان نے مہاراجہ ہری سنگھ کے حق میں نعرے بازی کی۔ بی جے پی کی رکن دیویانی رانا نے ’’مہاراجہ ہری سنگھ امر رہے، مہاراجہ ہری سنگھ امر رہے‘‘ کے نعرے لگائے۔
ہنگامہ آرائی کے دوران این سی ارکان مبارک گل اور شمیمہ فردوس نے شیخ عبداللہ کی سالگرہ کے موقع پر سرکاری تعطیل بحال کرنے کا مطالبہ زور شور سے اٹھایا۔پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رکن اسمبلی وحید پرہ نے بھی اس مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے اسے جائز قرار دیا اور یومِ شہدا کی سرکاری تعطیل بحال کرنے پر بھی زور دیا۔
اس دوران اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے احتجاج کرنے والے بی جے پی ارکان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کی کارروائی میں اس طرح کی خلل اندازی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا، ’’ایوان ضابطے کے مطابق چلنا ہے، آپ ایسا نہیں کر سکتے۔‘‘بعد ازاں بی جے پی ارکان نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیا۔