مہاراشٹر میں یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) کے لیے بنائی گئی کمیٹی سے سابق جج آر سی چوہان نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انگریزی اخبار ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق چوہان نے کمیٹی میں غیر اراکین کی مبینہ موجودگی اور عوامی رائے حاصل کرنے کے عمل کو لے کر استعفیٰ دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سابق جج نے 19 ستمبر کو کمیٹی رکنیت سے استعفیٰ کا فیصلہ سنایا۔
یہ بھی پڑھیں :
چوہان کی جانب سے یہ استعفیٰ کمیٹی کی دوسری میٹنگ کے بعد سامنے آیا ہے۔ یہ استعفیٰ ایسے وقت میں آیا ہے جب گزشتہ دنوں وزیر داخلہ امت شاہ نے مہاراشٹر میں ہی وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اور نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی موجودگی میں کہا تھا کہ 2029 سے پہلے تمام این ڈی اے حکومت والی ریاستوں میں یو سی سی نافذ کر دیا جائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ 7 ستمبر کو مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے مہاراشٹر اسمبلی میں ریاست میں یو سی سی کے قواعد وضع کرنے کے لیے سپریم کورٹ کی سابق جج رنجنا دیسائی کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس کمیٹی میں سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے 3 سابق جج، ایک آئینی ماہر، ایک سابق بیوروکریٹ اور سماجی شعبے سے 2 اراکین شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :
سپریم کورٹ کی سابق جج رنجنا دیسائی کی صدارت والی اس کمیٹی میں ہائی کورٹ کے سابق جج آر سی چوہان، ہائی کورٹ کے سابق جج ایس جی مہیرے، سابق چیف سکریٹری ڈی کے جین، سابق ایڈووکیٹ جنرل (اے جی) ویریندر صراف، سماجی کارکن پدم شری رمیش پاتنگے اور ماہر تعلیم ڈاکٹر سوارنا راول کو رکن بنایا گیا تھا۔