ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

جموں و کشمیر میں عارضی ملازمین کے مستقل کرنے کے لیے فی الحال کوئی مقررہ مدت نہیں: عمر عبداللہ

سری نگر/جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ مرکز کے زیر انتظام خطے میں عارضی، موسمی، کنٹریکٹ، یومیہ اجرت اور ضرورت کی بنیاد پر کام کرنے والے ملازمین کے مستقل کرنے کے لیے پالیسی کو حتمی شکل دینے کی فی الحال کوئی مقررہ مدت طے نہیں کی گئی ہے۔حکومت نے کہا کہ یہ معاملہ زیرِ غور ہے اور چیف سکریٹری کی سربراہی میں قائم کمیٹی اس معاملے کا جامع جائزہ لے رہی ہے، جس میں قانونی، انتظامی اور مالی پہلو بھی شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ نے قانون ساز اسمبلی میں رکن اسمبلی محمد تاریگامی کے اس سوال کے تحریری جواب میں یہ معلومات دیں، جس میں ایسے ملازمین کی مستقل کرنے کے معاملے کا جائزہ لینے کے لیے قائم کمیٹی کی رپورٹ اور سفارشات کی موجودہ صورتحال کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔حکومت کے مطابق یہ کمیٹی مارچ 2025 میں تشکیل دی گئی تھی اور جموں و کشمیر کے مختلف محکموں میں کام کرنے والے ملازمین کے معاملات کا جائزہ لے رہی ہے۔
کمیٹی کو ملازمین کو مستقل کرنے سے متعلق انسانی، قانونی اور مالی امور کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ حکومت نے کہا کہ یہ ملازمین مختلف زمروں سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں مختلف اوقات میں الگ الگ شرائط و ضوابط کے تحت ملازمت پر رکھا گیا تھا۔حکومت نے کہا کہ مجوزہ پالیسی متعلقہ قانونی دفعات، موجودہ قانونی پوزیشن اور مقررہ بھرتی کے طریقہ کار کے مطابق ہونی چاہیے، جبکہ اس کے مالی اثرات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے کہاکہ ’’کمیٹی تمام محکموں میں یکساں طور پر نافذ کیے جانے کے قابل اور انتظامی طور پر قابلِ عمل قانونی فریم ورک تیار کرنے کے لیے جامع جائزہ لے رہی ہے۔‘‘کمیٹی کی رپورٹ پیش کرنے اور حتمی پالیسی سے متعلق فیصلے کے وقت کے بارے میں حکومت نے کہا کہ وہ اس معاملے کے منظم اور پائیدار حل کی ضرورت سے واقف ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہاکہ ’’یہ معاملہ زیرِ غور ہے اور ضروری جائزہ و مشاورت کا عمل جلد از جلد مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم، مختلف زمروں کی کثرت اور کسی بھی فیصلے کے قانونی، انتظامی اور مالی اثرات کے پیش نظر اس مرحلے پر کوئی مقررہ مدت بتانا مناسب نہیں ہوگا۔ حکومت تمام متعلقہ پہلوؤں کا جائزہ مکمل کرنے اور متعلقہ محکموں و حکام سے ضروری معلومات موصول ہونے کے بعد سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے گی۔‘‘
حکومت سے یہ بھی پوچھا گیا تھا کہ ایسے ملازمین کے کسی اہل خانہ کے رکن کو ہمدردانہ بنیاد پر ملازمت دینے کی پالیسی کیا ہوگی، جن کی مستقل ہونے کا انتظار کرتے ہوئے موت ہوگئی۔ جواب میں حکومت نے کہا کہ یہ معاملہ کمیٹی کے دائرۂ کار میں شامل نہیں ہے۔جموں و کشمیر میں تقریباً ایک لاکھ عارضی اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین ہیں، جو کئی برسوں سے مستقل ہونے کے منتظر ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں