سفارتی ڈیڈلاک برقرار، تہران کا امن تجاویز پر واضح جواب کا مطالبہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دورہ امریکا کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے امکانات تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے سینئر حکام کے مطابق امریکی صدر کا رویہ انتہائی سخت ہے اور وہ تہران کی حالیہ تجاویز پر یکطرفہ مؤقف پر قائم ہیں۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے ایران نے اقوام متحدہ کے اجلاس سے قبل ثالثوں کے توسط سے امریکا کو 7 نکاتی تجاویز پیش کی تھیں۔ دستاویزات اور ذرائع کے مطابق تہران نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکی دباؤ میں کمی اور بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم ہونے پر 7 روز کے اندر آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش بھی کی تھی، جس کے جواب کا ایران شدت سے منتظر ہے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کبھی جنگ کا خواہاں نہیں رہا اور نہ ہی اس نے کسی تنازع کا آغاز کیا، لیکن اگر امریکا کی طرف سے جارحیت برقرار رکھی گئی تو تہران بھرپور طاقت کے ساتھ دفاع کرے گا۔ ایرانی صدر نے اس تاثر کو یکسر مسترد کر دیا کہ تہران امریکی مڈٹرم انتخابات کے نتائج کا انتظار کر رہا ہے، اور واضح کیا کہ ایران عالمی قوانین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جب تک ایرانی جہازوں کو نقل و حرکت کی آزادی حاصل نہیں ہوتی، تہران دیگر ممالک کے لیے یکطرفہ طور پر یہ حق تسلیم نہیں کرے گا۔ دریں اثنا، امریکی سیاسی منظر نامے پر بھی ہلچل مچی ہوئی ہے جہاں امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آنے والے مڈٹرم انتخابات کے پیش نظر مارشل لا نافذ کرنے کے مشورے دیے جا رہے ہیں، جس سے ملکی و بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔