ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) اور الیکشن کمیشن کے خلاف انڈیا بلاک کے 140 سے زائد اراکین پارلیمنٹ کا مارچ شروع ہو گیا ہے۔ تمام اراکین پارلیمنٹ ہاؤس سے نکل کر الیکشن کمیشن ہیڈکوارٹر کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ انڈیا بلاک کے اراکین پارلیمنٹ چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس احتجاجی مارچ میں سماجوادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ جیا بچن بھی شامل ہوئی ہیں۔
جیا بچن سے پوچھا گیا کہ وہ کتنی دور تک مارچ میں چلیں گی تو انہوں نے کہا کہ ’’جب تک قدم ساتھ دیں گے تب تک چلوں گی۔ یہ جمہوریت کو بچانے کی لڑائی ہے۔‘‘ نیوز ایجنسی ’اے این آئی‘ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’بی جے پی کا کام ہے الزامات کو غلط بتانا، لیکن ہمارا جو کام ہے وہ ہم کر رہے ہیں۔ گنیش جی غلط کاموں میں مدد نہیں کرتے ہیں۔ ہم گنیش جی کی پوجا سے ہی عبادت کا آغاز کرتے ہیں۔ وہ ہماری حفاظت کریں گے۔‘‘
سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے بی جے پی اور الیکشن کمیشن کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’بی جے پی کو اپنا دفتر الیکشن کمیشن میں بنا لینا چاہیے۔ الیکشن کمیشن کا ماننا ہے کہ وہی لوگ ہندوستانی شہری ہیں جو بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن ہیں۔ بی جے پی کا الیکشن کمیشن سے براہ راست تعلق ہے۔‘‘
شیو سینا (یو بی ٹی) کے راجیہ سبھا رکن سنجے راؤت نے انڈیا بلاک کے مارچ میں شامل ہونے سے قبل میڈیا سے بات کی۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ ’’ہم الیکشن کمیشن ہیڈکوارٹر جانا چاہتے ہیں اور گیانیش کمار سے کہنا چاہتے ہیں کہ آپ نے ملک کے ساتھ بہت غلط کیا ہے۔ آپ ملک کے دشمن ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ آپ جھوٹ بولنے والے شخص ہیں۔ سپریم کورٹ کو فارم 6 میں کی گئی تبدیلیوں کے بارے میں معلوم نہیں تھا، ہے نا؟ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اسے اندھیرے میں رکھتے ہوئے فارم 6 میں تبدیلیاں کی گئیں، جبکہ گیانیش کمار کہہ رہے تھے کہ انہیں اس کا علم تھا۔ اس لیے وہ جھوٹے ہیں۔ ایسے شخص کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔‘‘