ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

گیانیش کمار کو ہٹانے کے مطالبے پر اپوزیشن اراکینِ پارلیمنٹ کا مارچ، پولیس کے روکنے پر دھرنے پر بیٹھے

نئی دہلی/اپوزیشن جماعتوں کے انڈیا اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے منگل کے روز پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن کی طرف مارچ کیا لیکن پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا، جس کے بعد اراکینِ پارلیمنٹ نیتی آیوگ کے سامنے دھرنے پر بیٹھ گئے۔
تمام اپوزیشن اراکینِ پارلیمنٹ اس سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس کے مکر دوار پر جمع ہوئے اور وہاں سے ’لوک تنتر بچاؤ‘‘کے نعرے لگاتے ہوئے الیکشن کمیشن کی طرف بڑھنے لگے۔ پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روکا تو تمام اراکینِ پارلیمنٹ نیتی آیوگ کے سامنے دھرنے پر بیٹھ گئے۔ پولیس کے روکنے کے بعد کئی اراکینِ پارلیمنٹ زبردستی آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہوئے بیریکیڈ پر چڑھ گئے۔ کافی دیر تک آگے نہ بڑھ پانے پر تمام اراکینِ پارلیمنٹ نے وہیں بیٹھ کر احتجاجی مظاہرہ شروع کر دیا۔
اس دوران لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے کہا، گیانیش، ہو گیا بھائی۔ اب استعفیٰ دینے کا وقت ہے۔سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ الیکشن کمیشن پر پہلے بھی الزامات لگتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن نے 2017، 2019، 2022 اور 2024 کے انتخابات میں بے ایمانی کی اور مغربی بنگال میں پوری طرح سے ووٹ چوری کا کھیل کھیلا۔
مارچ میں شامل کانگریس رہنما پی چدمبرم نے کہا، بی جے پی ہندی یا انگریزی نہیں پڑھ سکتی۔ چیف جسٹس نے واضح طور پر کہا تھا کہ انہوں نے فارم-6 میں کسی تبدیلی کی منظوری نہیں دی ہے۔ بی جے پی اس بات سے واضح طور پر انکار کیسے کر سکتی ہے۔ فارم-6 میں ڈیکلریشن واقعی جوڑا گیا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں