ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے قبل پس پردہ کیا ہوتا رہا؟

حکومت اور پی ٹی آئی کے نمائندہ وفود نے مولانا فضل الرحمٰن سے رابطہ کیا،ان سے معاملے کے حل کے لیے کردار ادا کرنے کی درخواست کی، آخری وقت تک کی جانے والی کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکیں۔

October 11, 2026 · اہم خبریں, قومی

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد:وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر دیا ہے، جس کے بعد صوبائی حکومت غیر فعال ہوگئی ہے اور اس کے بعد گورنر فیصل کریم کنڈی اور ان کی 11 رکنی کونسل صوبائی امور چلائے گی۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات سنیچر کی رات تک جاری تھے تو پھر معاملات خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی تک کیسے پہنچے؟

پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت کے درمیان بلاواسطہ یا بالواسطہ مذاکرات میں اس وقت تعطل پیدا ہوا جب چند روز قبل قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کے دفتر میں حکومتی وفد اور پاکستان پی ٹی آئی کے درمیان ہونے والی بات چیت کے دوران سکیورٹی کے معاملے کو زیر بحث لایا گیا۔

حکومت کے مطابق پی ٹی آئی کے نمائندہ وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ لانگ مارچ ختم کرنے کا اختیار ان کے پاس نہیں، جبکہ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات صرف عمران خان کی صحت اور ان کی رہائی سے متعلق تھے۔

اس پیش رفت کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان براہِ راست رابطہ منقطع ہوگیا اور ان کی توجہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب مبذول ہوگئی۔

حکومت اور پی ٹی آئی کے نمائندہ وفود نے مولانا فضل الرحمٰن سے رابطہ کیا اور ان سے معاملے کے حل کے لیے کردار ادا کرنے کی درخواست کی، تاہم آخری وقت تک کی جانے والی کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکیں۔

PM

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے سابق وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات اور ان کی صحت کے معاملے کو بنیاد بنا کر لانگ مارچ کے اعلان کے بعد سے ہی صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق خبروں میں تیزی آ گئی تھی۔

پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کا آغاز بھی خیبر پختونخوا سے ہی کیا تھا اور سہیل آفریدی نے اپنی جماعت کے کارکنوں کو 13 اکتوبر کو صوابی پہنچنے کی ہدایت کی تھی، جہاں وہ آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرنے والے تھے۔

اہم اسی دوران شدت پسندی کے واقعات میں اضافے اور وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے بقول جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب کرم کے قریب پاک افغان سرحد پر شدت پسندوں کی دراندازی کی کوشش کے بعد، جس میں سکیورٹی فورسز نے 12 مبینہ شدت پسندوں کو ہلاک کیا، تمام متعلقہ فریق اس نتیجے پر پہنچے کہ صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کے سوا کوئی اور راستہ باقی نہیں رہا۔

ہفتے کے روز وزیر اعظم شہباز شریف چند وفاقی وزرا کے ہمراہ ایوانِ صدر پہنچے، جہاں انھوں نے صدر آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

اس کے علاوہ وزیر اعظم کی صدارت میں ایک علیحدہ اجلاس بھی ہوا، جس میں سکیورٹی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال، افغانستان کی جانب سے صوبے کے مختلف علاقوں میں ہونے والے ڈرون حملوں، خفیہ اداروں کی رپورٹس اور دیگر سکیورٹی معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

یہ اجلاس ختم ہی ہوا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن وزیر اعظم ہاؤس پہنچ گئے۔

انھوں نے صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کے بجائے سیاسی افہام و تفہیم کے ذریعے مسئلے کے حل اور اپوزیشن کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرنے پر زور دیا۔

وزیر اعظم سے ملاقات سے قبل پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر بھی مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کر چکے تھے۔

وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمٰن نے پی ٹی آئی قیادت کا پیغام حکومت تک پہنچایا۔ اس پر حکومتی مؤقف یہ تھا کہ اگر صوبائی حکومت لانگ مارچ ختم کرے اور شدت پسندی کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر عمل درآمد یقینی بنائے تو حکومت دوبارہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمٰن اپنے گھر پہنچے ہی تھے کہ بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر ایک بار پھر ان سے ملاقات کے لیے پہنچ گئے۔

Ministers

ذرائع کے مطابق جب پی ٹی آئی رہنماؤں کو حکومتی مؤقف سے آگاہ کیا گیا تو وہ وہاں سے روانہ ہوگئے۔ بعد ازاں پی ٹی آئی نے اپنی کور کمیٹی کا اجلاس طلب کیا، جس میں ایک جانب مسئلے کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی بات کی گئی، جبکہ دوسری جانب سہیل آفریدی کی قیادت میں جاری لانگ مارچ کی حمایت جاری رکھنے کا بھی اعادہ کیا گیا۔

ادھر ایوانِ صدر میں وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد صدر مملکت نے خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کو طلب کیا اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ لی۔

پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بی بی سی کو بتایا کہ وزیر اعظم نے صدر سے ملاقات کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی کو پی ٹی آئی قیادت سے دوبارہ رابطہ کرنے کی ہدایت کی۔

ان کے مطابق محسن نقوی نے پی ٹی آئی رہنماؤں سے رابطہ کیا اور واضح کیا کہ حکومت صرف یہ چاہتی ہے کہ شدت پسندی کے خاتمے کے معاملے میں صوبائی حکومت اس کی پالیسی کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ تاہم وفاقی وزیر کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے اس پر کوئی مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں حالات انتہائی خراب ہیں اور صوبائی حکومت وہاں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی، جس کے باعث مقامی آبادی عدم تحفظ کا شکار ہے۔

ان کے بقول امن و امان کا معاملہ سیاسی نہیں بلکہ قومی اور اجتماعی نوعیت کا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس سے قبل خفیہ اداروں کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹس میں شدت پسندی کے واقعات میں تقریباً 200 فیصد اضافے کی نشاندہی کی گئی تھی۔

پاکستان تحریک انصاف

دوسری جانب پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اور سابق وفاقی وزیر علی محمد خان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے ساتھ ہونے والے تمام بلاواسطہ یا بالواسطہ مذاکرات کا محور صرف عمران خان کی صحت اور ان کی رہائی کا معاملہ تھا۔

ان کے مطابق انہی مذاکرات کے دوران حکومت نے صوبے کی سکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال کو موضوع بحث بنایا، جس پر پی ٹی آئی کی جانب سے واضح کیا گیا کہ سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، تاہم یہ معاملہ وفاقی اور صوبائی حکومت کو باہمی مشاورت سے طے کرنا چاہیے۔

علی محمد خان کا کہنا تھا کہ حکومتی وفد سکیورٹی کے معاملے کو مذاکرات کا حصہ بنانے پر اصرار کرتا رہا اور اسی ہٹ دھرمی کے باعث بات چیت تعطل کا شکار ہوئی۔

انھوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں بھی پی ٹی آئی نے یہی مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات صرف عمران خان کی صحت اور رہائی تک محدود تھے۔

وزیر اعظم ہاؤس میں تعینات ایک اہلکار کے مطابق اتوار کی صبح چھ بجے مولانا فضل الرحمٰن نے وزیر اعظم سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور انہیں پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

اس کے بعد مولانا فضل الرحمٰن نے دوبارہ پی ٹی آئی قیادت سے رابطہ کرکے انہیں حکومتی مؤقف سے آگاہ کیا۔

بعد ازاں وزیر اعظم شہباز شریف کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیر اعظم نے کابینہ ارکان کو صوبے کی مجموعی صورتحال اور شدت پسندی کے واقعات کی روک تھام میں صوبائی حکومت کی مبینہ عدم دلچسپی کے بارے میں آگاہ کیا۔

اجلاس کے دوران وقفے میں بھی وزیر اعظم نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو مولانا فضل الرحمٰن سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن سے کہا گیا کہ وہ پی ٹی آئی قیادت سے دریافت کریں کہ آیا حکومت کی پیش کردہ تجاویز انہیں قابل قبول ہیں یا نہیں، کیونکہ وفاقی حکومت کسی جماعت کا مینڈیٹ سلب نہیں کرنا چاہتی۔

تاہم مولانا فضل الرحمٰن کو پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی حوصلہ افزا جواب موصول نہ ہونے کے بعد وفاقی کابینہ نے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی سمری کی منظوری دے دی، جسے حتمی منظوری کے لیے صدر مملکت کو بھجوا دیا گیا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں