اب وقت آ گیا ہے خیبر پختونخوا میں پائیدار امن فراہم کیا جائے۔گورنر فیصل کریم کنڈی
فائل فوٹو
پشاور:خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد قائم کی گئی مشاورتی کونسل کا پہلا اجلاس اتوار کو گورنر فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں کونسل کے ارکان نے اپنے اپنے محکموں اور ذمے داریوں کا تعارف کرایا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ کونسل کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم ارکان کو اپنے محکموں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی جائے گی تاکہ وہ جلد از جلد اپنی ذمہ داریاں سنبھال سکیں۔
انھوں نے کہا کہ صوبے کے معاملات کو تیزی سے آگے بڑھانا ہوگا اور بدعنوانی کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق تمام امور بروقت نمٹانے ہوں گے اور نئی انتظامیہ کو اپنی کارکردگی سے واضح فرق دکھانا ہوگا۔
گورنر نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی بحالی سب سے پہلی ترجیح ہے۔ اس مقصد کے لیے دیگر صوبوں کے کامیاب تجربات سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے موجودہ حالات کو صوبے کے لیے ایک موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کا مثبت تشخص اجاگر کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امن کے قیام سے سیاحت اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا، جس سے صوبے کی ترقی میں مدد ملے گی۔
عوام کے نام اپنے پیغام میں گورنر نے کہا کہ غیر معمولی حالات کے باعث آئین کے تحت ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔ انھوں نے سیاسی الزام تراشی سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد صوبے میں امن، تحفظ اور استحکام کی بحالی ہے۔
انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ انھیں پائیدار امن فراہم کیا جائے۔ان کے بقول ریاست کی جنگ دہشت گردی، اس کی پشت پناہی کرنے والی سوچ اور ان نیٹ ورکس کے خلاف ہے جو قانون کی عملداری کو کمزور کرتے ہیں۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ نئی انتظامیہ امن و امان کی بحالی، شفاف طرزِ حکمرانی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرے گی۔