راجستھان کے بھرت پور ضلع میں کریشر پلانٹ سے متعلق تنازعہ اتوار (11 اکتوبر) کی شام خونی تصادم میں تبدیل ہو گیا۔ بیانہ کے سابق رکن اسمبلی اور بی جے پی لیڈر اتر سنگھ بھڑانا کی مبینہ طور پر لاٹھیوں اور پتھروں سے حملے کے دوران موت ہو گئی۔ الزام ہے کہ ویر تھانہ علاقے کے بھونڈا گاؤں میں کریشر پلانٹ پر موجود بھڑانا اور ان کے ساتھیوں پر 70 سے 80 افراد نے حملہ کر دیا۔ حملے میں شدید طور پر زخمی ہوئے بھڑانا کی جے پور کے ایس ایم ایس اسپتال میں رات تقریباً 11:30 بجے موت ہو گئی۔ واردات کے بعد گاؤں میں کشیدگی کا ماحول ہے اور پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔
اتوار کی شام تقریباً 6:30 بجے اتر سنگھ بھڑانا بھونڈا گاؤں میں واقع اپنے کریشر پلانٹ پر موجود تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ گزشتہ تقریباً ایک برس سے بند پڑے کریشر پلانٹ کو دوبارہ شروع کرانے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔ اسی دوران گاؤں والوں اور بھڑانا کے حامیوں کے درمیان تنازعہ بڑھ گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے معاملہ مارپیٹ تک پہنچ گیا۔ الزام ہے کہ اس دوران بڑی تعداد میں لوگوں نے لاٹھیوں اور پتھروں سے حملہ کر دیا۔ تصادم میں اتر سنگھ بھڑانا اور ان کے ساتھی گگن شرما، ساکن ندبئی، شدید طور پر زخمی ہو گئے۔ دونوں کو پہلے ویر کے سب ڈسٹرکٹ اسپتال لے جایا گیا۔ حالت تشویش ناک ہونے پر بھڑانا کو جے پور اور گگن شرما کو بھرت پور ریفر کر دیا گیا۔ جے پور کے ایس ایم ایس اسپتال میں علاج کے دوران بھڑانا کی موت ہو گئی۔
سابق رکن اسمبلی کی اہلیہ کملیش نے اس معاملے میں پولیس اور انتظامیہ کی کارکردگی پر سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ کریشر پلانٹ کی لیز کا بجلی کنکشن کاٹ دیا گیا تھا اور واٹر پمپ بھی خراب کر دیا گیا تھا۔ لیز پر جانے والوں کو بھی وہاں سے بھگایا جا رہا تھا۔ کملیش کے مطابق ان واقعات کی اطلاع پولیس اور انتظامیہ کو مسلسل دی جا رہی تھی، لیکن کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ سابق رکن اسمبلی کی اہلیہ نے دعویٰ کیا کہ اتوار کی شام 6:30 سے7 بجے کے درمیان70 سے80 افراد نے ان کے شوہر اور دیگر لوگوں پر حملہ کیا۔ اہلیہ نے اتر سنگھ کو گولی لگنے کی بات بھی کہی ہے۔ حالانکہ ویر اسپتال کے ڈاکٹروں نے ابتدائی جانچ میں گولی لگنے کے امکان کو مسترد کر دیا۔ پولیس فائرنگ کے الزام کے حوالے سے معلومات جمع کر رہی ہے۔
تھانہ انچارج دھیریندر سنگھ کے مطابق تقریباً 4 برس قبل کریشر پلانٹ کے مالک اور گاؤں والوں کے درمیان جھگڑا اور مارپیٹ ہوئی تھی۔ گاؤں والوں کا الزام تھا کہ کریشر پلانٹ کے لیے چراگاہ کی زمین پر قبضہ کیا گیا ہے اور غیر قانونی کان کنی کی جا رہی ہے۔ لیز تک پہنچنے والے راستے کو لے کر بھی تنازعہ تھا۔ گاؤں والوں کے مطابق تقریباً گزشتہ 2 برس سے وہ اس معاملے پر وقفے وقفے سے احتجاجی مظاہرہ کر رہے تھے۔ گزشتہ ایک برس سے کریشر پلانٹ بند تھا اور اسے دوبارہ شروع کرانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ اتوار کے روز بھڑانا کے پلانٹ پر پہنچنے کے بعد تنازعہ ایک بار پھر بھڑک اٹھا۔ واردات سے متعلق فریقین کے الزامات الگ الگ ہیں۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ دس پندرہ دنوں سے پرامن احتجاج کر رہے تھے۔
گاؤں والوں نے بتایا کہ اتوار کی شام بھڑانا فریق کے40 سے50 لوگ وہاں پہنچے اور انہیں دھرنے سے ہٹا دیا۔ گاؤں والوں کے مطابق اس کے بعد تنازعہ بڑھ گیا اور دونوں طرف سے لاٹھیاں اور پتھر چلنے لگے۔ اسی تصادم میں بھڑانا شدید طور پر زخمی ہو گئے۔ تھانہ انچارج دھیریندر سنگھ کے مطابق واقعے کے سلسلے میں کسی بھی فریق کی جانب سے پولیس میں مقدمہ درج نہیں کرایا گیا تھا۔ تھانہ انچارج نے کہا کہ پولیس اس بات کا پتہ لگانے میں مصروف ہے کہ تصادم کے دوران فائرنگ ہوئی تھی یا نہیں اور کتنے لوگ زخمی ہوئے۔ واردات کے وقت کریشر پلانٹ پر تقریباً 20 سے25 ملازمین کے موجود ہونے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔
ویر کے سب ڈسٹرکٹ اسپتال کے ڈاکٹر روی نے بتایا کہ رات تقریباً 8:15 بجے زخمیوں کو اسپتال لایا گیا تھا۔ ابتدائی علاج کے بعد دونوں کو دوسرے اسپتالوں میں بھیج دیا گیا۔ فی الحال سابق رکن اسمبلی کی موت کے بعد معاملے نے سنگین رخ اختیار کر لیا ہے۔ گاؤں میں پولیس فورس تعینات ہے اور پورے معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔ اب جانچ کے بعد یہ واضح ہونا باقی ہے کہ حملے کی شروعات کیسے ہوئی، اس میں کون کون ملوث تھا اور فائرنگ کے الزامات میں کتنی سچائی ہے۔