نئی دہلی/مرکزی حکومت نے پی ایم کیئرز فار چلڈرن اسکیم کے تحت اسکالرشپ حاصل کرنے کے لیے آدھار کی تصدیق یا آدھار نمبر رکھنے کا ثبوت پیش کرنا لازمی قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں وزارتِ سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پی ایم کیئرز فار چلڈرن اسکیم کے تحت خصوصی اسکالرشپ حاصل کرنے والے مستفیدین کو آدھار کی تصدیق کرانی ہوگی یا اپنے آدھار نمبر کی موجودگی کا ثبوت پیش کرنا ہوگا۔ اس اسکیم کے ذریعے پہلی جماعت سے بارہویں جماعت تک تعلیم جاری رکھنے والے بچوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
تاہم وزارت نے واضح کیا ہے کہ آدھار کی تصدیق نہ ہونے یا آدھار نمبر جاری نہ کیے جانے کی صورت میں کسی بھی بچے کو امداد سے محروم نہیں رکھا جائے گا۔ ایسے معاملات میں بچے کی شناخت کی تصدیق اور والدین یا قانونی سرپرست کے ساتھ اس کے تعلق کو نوٹیفکیشن میں درج دستاویزات کی مدد سے ثابت کرنے کے بعد اسکیم کے فوائد فراہم کیے جائیں گے۔نوٹیفکیشن میں 18 سال سے کم عمر بچوں اور 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے ان مستفیدین کے لیے الگ الگ دستاویزی شرائط مقرر کی گئی ہیں، جنہیں ابھی تک آدھار نمبر جاری نہیں کیا گیا ہے۔
18 سال سے کم عمر بچے آدھار اندراج کی رسید پیش کر سکتے ہیں، جس میں اندراجی شناختی نمبر (Enrolment ID) درج ہو۔ اس کے علاوہ عمر کے ثبوت کے طور پر پیدائش کا سرٹیفکیٹ، بھارتی پاسپورٹ یا تسلیم شدہ تعلیمی بورڈ کی جانب سے جاری کردہ دسویں یا بارہویں جماعت کا سرٹیفکیٹ یا مارک شیٹ پیش کی جا سکتی ہے۔
18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے مستفیدین کے لیے نوٹیفکیشن میں ووٹر شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، بھارتی پاسپورٹ اور راشن کارڈ سمیت دیگر مقررہ شناختی دستاویزات کی فہرست دی گئی ہے۔
ت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر آدھار کی تصدیق میں ناکامی ہوتی ہے تو جہاں ممکن ہو، متبادل طریقوں کے ذریعے شناخت کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔ ان طریقوں میں بایومیٹرک تصدیق اور ون ٹائم پاس ورڈ (OTP) کے ذریعے تصدیق شامل ہیں۔