ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بائیڈن کے آنے سے امریکی پالیسی نہیں بدلے گی،فلسطینیوں کی رائے

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) فلسطینی علاقوں میں مقیم 35 فیصد فلسطینیوں کا ماننا ہے کہ امریکا میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جوبائیڈن کی آیندہ ماہ ہونے والے انتخابات میں کامیابی کی صورت میں حالات مزید ابتر ہوجائیں گے، جب کہ صرف 21 فیصد کو یقین ہے کہ جوبائیڈن کی صدارت میں امریکا کی پالیسی میں مثبت تبدیلی رونما ہوگی۔ انہوں نے اس رائے کا اظہار فلسطینی مرکز برائے پالیسی اور سروے ریسرچ (پی ایس آر) کے زیر اہتمام ایک جائزے میں کیا۔ اس سروے میں غربِ اردن اور غزہ سے تعلق رکھنے والے 1270 افراد سے سوالات پوچھے گئے تھے، جب کہ بیرون ملک مقیم فلسطینیوں سے امریکی صدارتی انتخابات سے متعلق رائے نہیں لی گئی۔ سروے میں 34 فیصد فلسطینیوں نے کہا کہ امریکا کی پالیسی میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوگی۔ سروے کے شرکا سے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان گزشتہ ماہ طے پانے والے امن معاہدے سمیت داخلی اور علاقائی سیاست کے بارے میں بھی پوچھا گیا تھا۔ 62 فیصد فلسطینیوں نے صدر محمودعباس سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ اس سے قبل جون میں 58 فیصد فلسطینیوں نے ان کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔ البتہ ایک تہائی سے بھی کم 31 فیصد فلسطینی صدر کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ سروے کے مطابق 62 فیصد فلسطینیوں کی رائے میں فلسطینی اتھارٹی ایک بوجھ ہے۔ محمودعباس 15 سال سے صدر چلے آرہے ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں