ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بھارتی پولیس کا کسانوں پر وحشیانہ تشدد‘ کئی زخمی

ہریانہ: ریاستی پولیس یوم جمہوریہ پر احتجاج میں شرکت کے لیے دہلی جانے کی کوشش کرنے والے کسانوں پر تشدد کررہی ہے

 

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں مودی سرکار کی جانب سے منظور کیے گئے متنازع زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کا احتجاج کئی ہفتوں سے جاری ہے۔ اس دوران بھارتی پولیس نے کھلی غنڈہ گردی کرتے ہوئے مظاہرین پر وحشیانہ تشدد کیا اور انہیں منتشر کرنے کے لیے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا، جس کے نتیجے میں احتجاج میں شریک درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ کسان رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو 26 جنوری کو بھارت کے یوم ِجمہوریہ پر ملک بھر میں ریلیاں نکالی جائیں گی۔ واضح رہے کہ 26 نومبر سے جاری بھارتی کسانوں کے احتجاج میں حکومتی ہٹ دھرمی کے باعث شدت آ گئی ہے۔ ہریانہ، پنجاب اور راجستھان کی سرحدوں پر مظاہرین اور پولیس آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ بھارتی پولیس نے نئی دہلی کی طرف ٹریکٹر مارچ کرتے ہوئے کسانوں پرگولیاں برسا دیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق ضلع ریواڑی میں نہتے کاشتکاروں پر شیلنگ کی گئی اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے تیز دھار پانی بھی مارا گیا، جس سے کئی کسان زخمی ہو گئے۔ دوسری جانب مشرقی پنجاب کے شہر سنگرور میں بی جے پی رہنما کو جعلی کاشتکاروں کے ساتھ میٹنگ کرنا مہنگا پڑ گیا۔ کسان رکاوٹیں ہٹا کر ٹریکٹر ٹرالی سرکاری دفتر تک لے گئے۔ اس موقع پر بی جے پی رہنما ڈراما چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں