ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اینکر غریدہ فاروقی کے خلاف پھر سے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ

اینکر غریدہ فاروقی متنازعہ ٹوئٹس اور کبھی اپنی کم سن ملازمہ کو حبس بے جا میں رکھنے پر سوشل
میڈیا پر چھائی رہتی ہیں۔

اس مرتبہ انہوں نے عید الاضحی کی مبارک باد دیتے ہوئے جانوروں کی قربانی سے گریز کرنے کا مشورہ دیا
ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قربانی کے حقیقی فلسفہ اور پیغام کو سمجھا جائے، اگر آپ کے اختیار میں ہے تو پھر
ایک جانور کی زندگی بچائیں۔ غریدہ کے اس بیان کو سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت تھی نہ کہ ان کے
خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا جائے۔

ساتھ ہی انہوں نے کہہ دیا کہ عید قرباں گوشت کھانے کی یاد گار نہیں اس دن جانوروں سے محبت کرنے
کا دن ہے۔

اس بیان کو لے کر سوشل میڈیا پر ان کی مخالفت میں ساتھ اینکرز اور بلاگرز نے بھی ویڈیوز بنا کے اپ لوڈ
کر دیں۔ اس طرح بیان بازی اور اپنی ویور شپ بڑھانے کے لیے مخالفانہ بیانات اور ویڈیوز کا سلسلہ ہنوز
جاری ہے۔
گند مت پھیلاو، مریم نواز غریدہ فاروقی پر شدید برہم کیوں ہوئی؟
بیان بازی جو لوگ سوشل میڈیا پر کر رہے ہیں ان کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ غریدہ کے اس بیان کو
نظر انداز بھی کیا جاسکتا تھا لیکن بس دوسروں پر کیچڑ اچھال کر خود کو نمایاں کرنے کے چکر میں مزید
ایک دوسرے کا مزاق اڑایا جارہا ہے۔

گو کہ غریدہ فاروقی کچھ عرصہ قبل بھی اپنی کم عمر ملازمہ کو حبس بے جا میں رکھنے کے معاملے پر سوشل
میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا پر چھائی رہی تھیں۔ اب پھر سے ان کے پرانے کلپ ہیش ٹیگ کے ساتھ وائرل
کیے جارہے ہیں۔

پاکستان میں بدقسمتی سے مین اسٹریم میڈیا ہو یا موجودہ حکومت کی پیداوار بلاگرز سب ہی تعمیری
کاموں کے بجائے محض ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے پر لگے ہوئے ہیں۔ دنیا بھر میں سوشل میڈیا کو
مثبت اور تعمیری چیزیں شیئر کی جاتی ہیں لیکن ہمارے گالم گلوچ والے ٹرینڈ چلائے جاتے ہیں۔

کسی بھی معاشرے کی نفسیات کا پتہ چلانا ہوتا تھا تو ان کی سڑکوں اور رہن سہن پر نظر ڈالی جاتی
تھی لیکن اب اس کی بھی ضرورت نہیں رہی بس آپ سوشل میڈیا پر ایک طائرانہ نظر ڈال لیں تو
سب کچھ سامنے آجائے گا۔

بدقسمتی سے پاکستان کا یہی حال ہے جہاں ہر کوئی بے لگام بھینسے کی طرح سب کچھ روندتے
ہوئے دوڑے چلاجارہا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں