ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پاکستان میں یکساں نصاب تعلیم رائج کرنے کی بحث، کس کو کیا حاصل ہوگا؟

پاکستان میں ابتدائی تعلیم کے لئے یکساں نصاب کے نفاذ پر ماہرین تعلیم کے درمیان اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ یہ نصاب مرحلہ وار ملک میں نافذ کیا جارہا ہے۔ پاکستان کی قومی زبان اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ نجی اسکولوں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ چاہیں تو انگریزی کو بھی ذریعہ تعلیم رکھ سکتے ہیں۔

پنجاب یونیورسٹی کی ریسرچ سوسائٹی آف پاکستان کے ڈائریکٹر اور ایک ماہر تعلیم، ڈاکٹر اقبال چاولہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنیادی بات یہ ہے کہ جس ملک میں شرح خواندگی ساٹھ فیصد سے بھی کم ہو وہاں زور اس بات پر نہیں دیا جانا چاہئیے کہ تعلیم کس زبان میں دی جائے۔ دراصل زور اس بات پر دیا جانا چاہئیے کہ پہلے شرح خواندگی کو عالمی معیار کے مطابق لایا جائے، خواہ تعلیم کسی زبان میں بھی دی جا رہی ہو، جبکہ اس نئے نصاب میں زیادہ زور قومی زبان اور مذہبی تعلیم پر ہے۔

نصاب میں تبدیلیوں کا اختیار کسے ہونا چاہیے؟





please wait



No media source currently available

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پہلے ہی ہمارے سلیبس کے مطابق بچوں کو دین اسلام کی تعلیم دی جاتی ہے۔ لیکن بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اس میں اضافے سےبچوں میں ایک خاص نوعیت کی ذہن سازی ہوگی۔ اگر ایسا ہی ہے تو یہ غلط ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ضیاءالحق کے دور میں مخصوص نوعیت کی ذہن سازی کے لئے نصاب میں اسلامیات اور پاکستان اسٹڈیز کو بڑے پیمانے ہر شامل کیا گیا تھا، اسلئے نصاب میں مذہبی تعلیم کا عمل دخل ابھی بھی کافی ہے ۔اب اگر اس میں مزید اضافہ کیا گیا تو یہ مناسب نہ ہوگا اور بعض لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ نصاب میں اصلاحات کا یہ عمل ضیاءالحق کے دور کے سلسلے کا دوسرا حصہ ہے۔

پاکستان میں یکساں نصاب کی کوششیں اور تنقید





please wait



No media source currently available

بقول ان کے،”وہی مائینڈ سیٹ دکھائی دیتا ہے جو ضیا دور میں تھا۔ اور اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ان کے پیش نظر بھی بس سیاسی اسلام ہی تھا۔ حقیقتاً، اس اقدام سے اسلام کی کوئی خدمت نہیں ہوئی، بلکہ اس زمانے میں لوگ اسلام سے دور ہی ہوئے”۔

ڈاکٹر چاؤلہ کا کہنا تھا کہ اس نصاب کی بنیاد اس مفروضے پر ہے کہ اس سے یکسانیت آئے گی۔ لیکن، وہ سمجھتے ہیں کہ جب تک تعلیمی نظام کا بنیادی انفرا اسٹرکچر یکساں نہیں ہو گا یہ یکسانیت حاصل نہیں ہوسکے گی۔


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ان کے الفاظ میں، ”جب تک آپ اشرافیہ اور دور دراز دیہاتی علاقوں میں رہنے والے عام لوگوں کے بچوں کی تعلیم کے لئے یکساں ماحول مہیا نہیں کریں گے، یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکے گا۔ اشرافیہ کے بچے بدستور احساس برتری کا اور عام آدمی کے بچے بدستور احساس کمتری کا شکار رہیں گے”۔

ڈاکٹر حافظ محمد اقبال نصاب سے متعلق امور کے ایک ممتاز تجزیہ کار ہیں۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ملک میں 1974 میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے نصاب تعلیم میں یکسانیت پیدا کرنے کی کوششوں پر تفصیل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب حکومت نے’واحد قومی نصاب’ کے نام سے یہ نصاب تعلیم ترتیب دیا ہے، جسے مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ پورے پاکستان کے بچوں کے لئے ایک جیسا تعلیمی نظام ہو اور ایک جیسی سہولتیں ہوں؛ ایک جیسا نفس مضمون ہو، تاکہ بچے جیسے جیسے اپنی تعلیم کے سلسلے میں آگے بڑھتے جائیں، ان کی سوچ، قومی امور پر ان کے انداز فکر میں ہم آہنگی اور یکسانیت ہو۔


فائل فوٹو

فائل فوٹو

برطانیہ کی مثال دیتے ہوئے، حافظ محمد اقبال نے کہا کہ 1988 سے پہلے برطانیہ میں لندن، آئرلینڈ اسکاٹ لینڈ کے نصاب تعلیم الگ الگ تھے، لیکن پھر مارگریٹ تھیچر جب وزیر اعظم بنیں تو انہوں نے ایک ایکٹ کے تحت پورے ملک میں ایک نصاب تعلیم نافذ کردیا۔ اس کے لئے انکا جواز یہ تھا کہ جب ہم ایک قوم ہیں تو ایک قوم کے سارے بچوں کو ایک جیسی تعلیم بھی دی جانی چاہئیے۔ اقدار میں ہم آہنگی ہونی چاہئیے اور یہی مقصد یہاں بھی ہے۔

انہوں نے بعض حلقوں کے اس خیال کو قطعی غلط قرار دیا کہ اس نئے نصاب میں انگریزی کی جگہ مذہبی تعلیم کو زیادہ جگہ دی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسلامیات کے نام سے یہ مضمون ہمیشہ نصاب تعلیم کا حصہ رہا ہے۔

ڈاکٹر حافظ اقبال کا کہنا تھا کہ یہ سوچ بھی غلط ہے کہ اس نصاب سے ملک میں مذہبی انتہا پسندی کو فروغ ملے گا، کیونکہ بزرگان دین اور مذہبی شخصیات کے واقعات سنانے سے مذہبی انتہا پسندی کا نہیں بلکہ اچھے اخلاق کا، اچھے انسان بننے کا سبق ملتا ہے۔ اور یہ کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک بہتر قدم ہے۔

نصابی امور کے ماہر نے کہا کہ یوں تو قوموں میں وقت اور حالات کے مطابق نصابوں میں اصلاحات کا عمل جاری رہتا ہے، لیکن یہ انتہائی ضروری ہے کہ قوم کے تمام بچوں کو خواہ ان کا تعلق ملک کے کسی بھی جغرافیائی خطے سے ہو یکساں نصاب، یکساں سہولتیں اور یکساں تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں