اسلام آباد —
پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مقامی خبر رساں ادارے ‘آن لائن نیوز ایجنسی’ کے ایڈیٹر انچیف محسن بیگ کو اسلام آباد سے گرفتار کرلیا ہے۔ ان کی گرفتاری پر صحافیوں کی جانب سے مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔
عینی شاہدین اور محسن بیگ کے اہلِ خانہ کے مطابق بدھ کو صبح گیارہ بجے کے قریب ایف آئی اے اہلکاروں نے ان کے گھر پر چھاپہ مارااور اس دوران پولیس کی بھاری نفری نے ان کے گھر کا گھیراؤ کیا ۔
اہل خانہ کے مطابق ایف آئی اے کے پاس محسن بیگ کی گرفتاری کے وارنٹ نہیں تھے جس پر ان کی اہلکاروں کے ساتھ تلخ کلامی بھی ہوئی اور اہلکاروں نے محسن بیگ کو زدوکوب بھی کیا۔
ترجمان اسلام آباد پولیس نے محسن بیگ کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایف آئی اے کی ٹیم کی کارروائی کے دوران اسے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور ملزم کی فائرنگ سے ایک اہلکار بھی زخمی ہو گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم کو تھانہ منتقل کرکے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔
صحافی محسن بیگ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے سخت ناقد سمجھے جاتے ہیں اور حالیہ دنوں میں انہوں نے ‘نیوز ون’ چینل کے ایک پروگرام کے دوران حکومت پر شدید تنقید کی تھی۔ بعدازاں چینل کی نشریات پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔
ماضی میں محسن بیگ کا شمار سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا اور حکومتی حلقوں میں اثرورسوخ کے مالک سمجھے جاتے تھے۔
یاد رہے کہ محسن بیگ آن لائن نیوز ایجنسی کے ایڈیٹر انچیف کے ساتھ ساتھ روزنامہ جناح کے بھی ایڈیٹر انچیف ہیں۔
ان کے اخبار سے وابستہ صحافی شمشاد مانگٹ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ محسن بیگ کے گھر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے چھاپہ مارا اور اب وہ ان کے بیٹے کو بھی گرفتار کرنا چاہ رہے ہیں۔
بتایا جارہا ہے کہ محسن بیگ کی گرفتاری کے دوران ہوائی فائرنگ بھی ہوئی لیکن فوری طور پر یہ پتا نہیں چل سکا ہے فائرنگ محسن بیگ کے صاحبزادے نے کی یا ان کے محافظین کی جانب سے کی گئی۔