حضرت آیت اللہ سید علی سیستانی کا غیر مسلموں کے ساتھ رواداری کا برتاؤ کرنے کے لیے چند اہم نصیحتیں۔ ان کی تقریر کا لب لباب ذیل میں دیا گیا ہے۔
غیر مسلموں کے لیے رواداری
لوگوں کے ساتھ رواداری اور ہم آہنگی شریعہ کے مستحبات میں سے اہم ہیں اور ہمارے سچے دین نے اس کی تلقین کی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ ” میرے رب نے مجھے لوگوں کے ساتھ رواداری کا حکم دیا بالکل ایسے ہی جیسے مجھے دیگر فرائض کی ادائیگی کا حکم دیا گیا”۔ ایک جگہ اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اگر کسی شخص میں تین چیزیں نہیں ہیں تو اس کے اعمال درست نہیں ہیں، اول ،پاکیزگی جو اسے گناہوں اور اللہ کی نافرمانی سے بچائے، دوم اچھے اخلاق جو اسے لوگوں کے ساتھ روادار بنائیں اور سوم، صبر اور نرمی جو اسے جاہل اور بے وقوف لوگوں سے معاملات کرنے میں مدد دے۔
رواداری و تحمل تمام لوگوں کے لیے ہے
رواداری کا مظاہرہ صرف مسلمان لوگوں تک محدود نہیں بلکہ اس کا مظاہرہ تمام انسانیت کے لیے ہے چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں۔ ایک روایت ہے کہ امیر المؤمنیں حضرت علی علیہ السلام ایک مرتبہ ایک مشرک کے ساتھ کوفہ کی طرف سفر کر رہے تھے تو وہ ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں دونوں کے رستے الگ ہو رہے تھے تاہم امام علیہ السلام اس آدمی کے ساتھ چند قدم اس کے رستے پر چل پڑے ۔ مشرک یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ امام علیہ السلام کوفہ کا رستہ چھوڑ کر اس کے ساتھ ہو لیے ہیں۔ اس پر اس مشرک نے امام علی علیہ السلام سے سوال کیا کہ ” کیا آپ نے یہ نہیں کہا تھا کہ آپ کوفہ جا رہے ہیں؟
امام علیہ السلام نے جواب دیا ” بالکل” ۔ اس پر اس مشرک نے پوچھا کہ پھر آپ میرے رستے پر کیوں چل پڑے ہیں یہ رستہ تو کوفہ نہیں جاتا۔ اس پر امام علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہے مگر میں تمہیں خیرباد کہنے کے لیے تھوڑا رستہ تمہارے ساتھ ہو لیا تھا کیونکہ ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ” جب کبھی دو لوگ ایک ہی رستے پر ساتھ سفر کریں تو انکا ایک دوسرے پر حق قائم ہوجاتا ہے۔ پس تمہارے مجھ پر حق تھا اور اسی حق کی ادائیگی کے لیے میں تمہارے رستے پر چند قدم چل پڑا اور تمہیں خیر باد کہنے کے بعد میں اپنے رستے پر لوٹ جاؤن گا۔ آپ علیہ السلام کی یہ بات سن کر وہ فورا ایمان لے آیا اور مسلمان ہوگیا۔
غیر مسلموں کے ساتھ امیر المؤمنین علی السلام کا انصاف
غیر مسلمؤں کے ساتھ امام علی علیہ السلام کے انصاف کے بارے میں صحابہ نے بہت حیرت انگیز چیزیں روایت کی ہیں ۔جیسا کہ ایک مرتبہ امیر المؤمنین علی ابن طالب علیہ السلام بازار گئے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک عیسائی شخص زرہ بکتر بیچ رہا رہے۔ آپ علیہ السلام نے ایک زرہ پہچان کر کہا کہ یہ تو میری ہے اور شہر کے قاضی اس کے لیے میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کریں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس وقت جج شریعہ تھے اور حضرت علی علیہ السلام نے خود کو ان کو اس مسند پر تعینات کیا تھا۔ جب امام علی علیہ السلام اور وہ عیسائی منصف کے سامنے پیش ہوئے تو اس نے پوچھا ، اے علی ابن طالب علیہ السلام آپ کیا کہتے ہیں” آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ زرہ میری ہے اور یہ مجھ سے کچھ عرصہ قبل چوری ہوگئی تھی اور اب میں نے اس کو اس شخص کے ہاتھ میں دیکھا ہے۔
قاضی نے علی مرتضی علیہ السلام سے پوچھا کہ آپ کا دعوی اس زرہ پر ہے! کیا آپ کے پاس کوئی گواہ ہے جو یہ گواہی دے کہ آپ کا اس زرہ پر دعوی درست ہے، امام علی علیہ السلام نے فرمایا میرے پاس کوئی گواہ نہیں۔ جس پر قاضی نے آپ علیہ السلام کے خلاف فیصلہ سنا دیا۔ اس عیسائی نے یہ سنا تو کہا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ ایسا فیصلہ صرف پیغمر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سچے پیرورکار ہی دے سکتے ہیں کہ امیر قاضی کے سامنے پیش ہوتا ہے اور قاضی اس کے خلاف فیصلہ دے دیتا ہے۔ اے امیر المؤمنین علیہ السلام میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ یہ زرہ آپ کی ہے اور آپ جب اپنے سپاہیوں کے درمیان گشت کر رہے تھے تو میں آپ کا پیچھا کر رہا تھا اور جب آپ علیہ السلام کے اونٹ سے زرہ گری تو میں نے اٹھا لی اور اب میں اللہ پرہ ایمان لاتا ہوں اور مسلمان ہونا چاہتا ہوں۔ اس پر امیر علیہ السلام نے جواب دیا کہ اب تم مسلمان ہوگئے ہو تو یہ زرہ بھی تمہاری ہے اور اس کے علاوہ آپ علیہ السلام نے اسے ایک گھوڑا بھی تحفے میں دیا۔
امام علی علیہ السلام قانون کے معاملے میں مسلمان اور کافر کا فرق نہیں کرتے تھے
امیر المؤمنین حضرت علی الیہ السلام کے متعلق ایک روایت ہے جس سے تاریخی طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان معاشرے میں سوشل سیکورٹی کی کیا حیثیت ہے یعنی امام علیہ السلام قانون کے معاملے میں مشرک و مسلمان میں ہرگز فرق نہیں کرتے تھے۔ روایت میں ہے ایک بوڑے اندھے شخص نے لوگوں سے مدد کے لیے کہا؟ امام علیہ السلام نے پوچھا تمہیں کیا مسئلہ درپیش ہے۔ انہوں نے جواب دیا یہ شخص عیسائی ہے ۔ امام علیہ السلام نے فرمایا کیا تم لوگوں نے اس سے کام نہیں لیا اور اب جب یہ بوڑھا ہوگیا ہے تو تم نے اسے چھوڑ دیا ہے۔ اسے بیت المال سے پنشن ادا کرو۔ امام صادق علیہ السلام کا قول ہے کہ حتٰی کہ اگر ایک یہودی تمہارا ساتھ دیتا ہے تو تم اس سے بڑھ کر اس کا ساتھ دو۔
پیر، 21 فروری 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post غیر مسلموں کے لیے رواداری: حضرت آیت اللہ سید علی سیستانی کی نصیحت: شفقنا خصوصی appeared first on شفقنا اردو نیوز.