حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد کیلئے مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم یا بی اے پی کا ٹوٹنا ضروری ہے۔ جہانگیر ترین گروپ کی اہمیت ضرور ہے لیکن صرف اسے ساتھ ملا کر اس میں کامیابی نہیں ہو سکتی.مگر جہانگیر ترین گروپ کی اہمیت کو قطعا بھی جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے یقین ظاہر کیا ہے کہ جہانگیر ترین مسلسل پارٹی کے وفادار رہیں گے اور وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی صورت میں اپوزیشن کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ جہانگیر ترین گروپ کا دعویٰ ہے کہ اسے 30 ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ اس گروپ نے گزشتہ دنوں دو بار ملاقات کی ہے اور خبروں کے مطابق جہانگیر ترین خفیہ طور سے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے بھی مل چکے ہیں۔
تحریک عدم اعتماد بھی بس آنے والی ہے اور سکرپٹ کے مطابق دیگر چیزیں بھی اپنے وقت پر سامنے آئیں گی۔ اس حوالے سے حکومت کے خوف کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پارلیمنٹ کا اجلاس بلا کر اسے ملتوی کر دیا گیا ہے۔تجزیہ نگاروں کے مطابق اس اہم معاملے میں اتحادیوں سے بات چیت چل رہی ہے لیکن وہ جن اشاروں کے منتظر ہیں، سب کو بھی اس کا ہی انتظار ہے۔ سنا ہے وہ اشارہ اگلے چند دن میں آ جائے گا اور حالات بدل جائیں گے۔ مسلم لیگ ن اور جہانگیر ترین گروپ دونوں ہی ایک دوسرے کی ترجیح ہیں۔ ترین گروپ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے انتخابی میدان میں اترنے کا خواہشمند ہے جبکہ ن لیگ سمجھتی ہے کہ چودھری برادران کا بوجھ اٹھانے کی بجائے ان کو ہی ساتھ ملا لیا جائے۔ لیکن ترین صاحب کے پاس شاید کوئی سکرپٹ ہے، وہ آزاد حیثیت سے انتخابات لڑ کر اسمبلیوں میں جانا چاہتے ہیں۔ اسی بات پر ابھی تک دونوں جانب سے کوئی اتفاق نہیں ہو رہا ہے۔
مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اپوزیشن کا حکمران جماعت تحریک انصاف کے متعدد ارکان سے رابطہ ہے۔ ان کے بقول یہ تعداد تحریک عدم اعتماد منظور کروانے کے لئے درکار تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ گویا اپوزیشن یا مسلم لیگ (ن) آسانی سے وزیر عظم کو اقتدار سے محروم کر سکتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگ زیب نے اشارہ دیا ہے کہ عمران خان کو 23 مارچ سے پہلے قومی اسمبلی میں اکثریت سے محروم کردیا جائے گا۔ واضح رہے پاکستان جمہوری تحریک اس دن سے حکومت کے خلاف لانگ شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان متضاد دعوؤں کی وجہ سے ملک کی سیاسی صورت حال بدستور بے یقینی کا شکار ہے۔ حکومت اور اس کے اہم ترین ترجمانوں کی تمام تر صلاحیت اپوزیشن کے خلاف بیان دینے اور ان خبروں کی تردید کرنے میں صرف ہورہی ہے کہ اپوزیشن کسی بھی وقت عدم اعتماد کی تحریک لاکر حکمران جماعت اور وزیر اعظم کے لئے پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔ گزشتہ روز وزیر اعظم نے منڈی بہاؤالدین میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے بھی دراصل اپوزیشن کی سیاسی مہم جوئی کا زور توڑنے کی کوشش کی تھی۔
یوں تو ملک کی سب سیاسی قوتوں کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ داخلی سیاسی انتشار سے ملک کو فائدہ نہیں پہنچے گا۔ اپوزیشن کو یقیناً ملک میں استحکام اور خیر سگالی کے ماحول کے لئے کردار ادا کرنا چاہئے لیکن موجودہ بداعتمادی کی فضا پیدا کرنے میں حکومت اور وزیر اعظم نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے مسائل کا سیاسی حل تلاش کرنے کی بجائے، آمرانہ ہتھکنڈے اختیار کرنے اور مفاہمت پیدا کرنے کی بجائے اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ ذاتی دشمنی کا ماحول پیدا کرکے اپنی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ اب بھی سوال یہ نہیں ہے کہ عمران خان کی حکومت ختم کی جاسکتی ہے یا نہیں یا یہ کہ اپوزیشن عدم اعتماد لانے اور منظور کروانے میں کامیاب ہوسکتی ہے یا نہیں۔ بلکہ پوچھا یہ جائے گا کہ ملکی حکومت کیا کام کررہی ہے اور کس شعبہ میں اس کے فٹ پرنٹ محسوس کئے جاسکتے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں جہانگیر ترین گروپ کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے، جہانگیر ترین نے موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے پر پرزے نکالنا شروع کر دیے ہیں، اب کسی نہ کسی حوالے سے وہ میڈیا پر بات چیت کرتے نظر آتے ہیں اور محتاط اشارے بھی دے رہے ہیں چند روز قبل جہانگیر ترین گروپ نے عون چودھری کے گھر پر اپنی طاقت پھر شو کی، اس موقع پر 5 ارکان قومی اسمبلی اور 20 کے قریب ارکان پنجاب اسمبلی موجود تھے، جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ چند دوست مصروفیت کی وجہ سے نہیں آ سکے مگر وہ ویڈیو لنک کے ذریعے اکٹھ میں موجود رہے، ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ابھی کچھ پتے چھپا کر رکھے ہیں جن کو ابھی سامنے نہیں لایا جا رہا.
اس سیاسی ہل چل میں جہانگیر ترین کے جہاز کا بہت چرچا ہے، کیونکہ یہ جہانگیر ترین کے جہاز ہی تھا جس نے عمران حکومت کے تانگے کی سواریوں کو پورا کیا اور عمران خان کو حکومت بنا کردی جس کے مزے ابھی تک عمران خان لے رہے ہیں، ایک صحافی نے جہانگیر ترین سے سوال بھی کیا کہ اب آپ کا جہاز کہاں لینڈ کرے گا؟ جس پر جہانگیر ترین نے ہنستے ہوئے کہا جہاز کہیں بھی لینڈ کر سکتا ہے، یہ ایک واضح اشارہ تھا کہ خان صاحب جاگ دے رہنا، ساڈے تے نا رہنا.جہانگیر ترین موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ اہمیت حاصل کرچکے ہیں، کیونکہ ان کے پاس پنجاب اور قومی اسمبلی سے ارکان کی اچھی خاصی تعداد موجود ہیں اور وہ وقتاً فوقتاً اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں، چند روز قبل گروپ کے اجلاس میں اکثر ارکان اسمبلی نے مشورہ دیا کہ ہمیں تحریک عدم اعتماد میں نون لیگ کا ساتھ دینا چاہیے، اس فیصلے کے بعد پنجاب کا چودھری بھی کچھ سوچنے پر مجبور ہو گیا ہے، چودھری کا کہنا ہے کہ جلد بادل چھٹ جائیں گے اور موسم صاف ہو جائے گا.
جہانگیر ترین گروپ اور تمام اپوزیشن نے ابھی اپنے اپنے پتے شو نہیں کرائے اور کرانے بھی نہیں چاہئیں کیونکہ اس طرح مخالف اس کا فوراً توڑ کر لے گا اور اپوزیشن کا وار خالی چلا جائے گا، فی الحال جو حالات نظر آرہے ہیں وہ یہ ہیں کہ اپوزیشن اور جہانگیر ترین پہلے پنجاب میں تحریک عدم اعتماد لائیں گے اس طرح ایک تیر سے دو شکار ہوں گے، پنجاب کی حکومت کو گرانے کا مقصد ”شاہ“ کو شہ دینا بھی ہو گا کہ تمھارا اہم پیادہ مارا گیا اب تم اپنی خیر مناؤ، پنجاب حکومت کا تختہ الٹنا اپوزیشن کے لئے بہت آسان ہے اور اگر اپوزیشن یہ معرکہ مار لیتی ہے تو مستقبل کی سیاست اور الیکشن دونوں اپوزیشن کے حق میں ہوگی.
پیر، 21 فروری 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post جہانگیر ترین کا جہاز کہاں لینڈ کرے گا؟ appeared first on شفقنا اردو نیوز.