اسلام آباد /لاہور(نمائندگان جسارت) جماعت اسلامی پاکستان کے وفد نے اسلام آباد میں ترکی کے وزیر مذہبی امور ڈاکٹر علی ارباش سے ملاقات کی۔ نائب امیر جماعت اسلامی میاں محمداسلم کی قیادت میں وفد میں ڈائریکٹر امور خارجہ آصف لقمان قاضی، سابق امیر جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر عبد الرشید ترابی اور اسلام آباد کے امیر نصراللہ رندھاوا شامل تھے۔ وفد کی ترجمانی کرتے ہوئے آصف لقمان قاضی نے ڈاکٹر علی ارباش اور ان کے ہمراہ دیگر مہمانوں کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا۔ انھوں نے کہا کہ ترکی اور پاکستان کے دوستانہ تعلقات گہرے اور دیرینہ اور اسلامی اخوت کی بنیاد پر قائم ہیں۔ ہمارے دلوں میں اپنے ترک بھائیوں کے لیے محبت اور احترام کے جذبات ہیں۔انھوں نے امت مسلمہ کے سلگتے مسائل میں عالمی سطح پر مسلمانوں کی ترجمانی کرنے پر ترک حکومت اور صدر رجب طیب اردوان کو خراج تحسین پیش کیا۔ آصف لقمان قاضی نے کشمیر اور فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی پشتیبانی کرنے پر ترک حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے اسلامو فوبیا اور حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم جیسے موضوعات پر مغربی دنیا کے سامنے مسلمانوں کا موقف واضح انداز میں پیش کرنے پر ترک حکومت کے کردار کو سراہا۔ عبد الرشید ترابی نے کہا کہ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر کی آبادی میں مسلمانوں کے تناسب کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور باہر سے افراد کو کشمیر میں بسایا جا رہا ہے۔ بھارت نے کشمیر میں وہ طریقے اختیار کیے ہیں جو اسرائیل فلسطین میں کر رہا ہے۔ او آئی سی مارچ میں ہونے والے اجلاس میں کشمیر پر اصولی موقف کو واضح کرے۔ اس موقع پر ترک وزیر مذہبی امور نے کہا کہ پاکستان اور ترکی برادر مسلم ممالک ہیں اور بین الاقوامی امور پر پاکستان اور ترکی میں مکمل ہم آہنگی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین پر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو پس پشت ڈالا گیا ہے، جس پر ہمیں تشویش ہے۔ جماعت اسلامی کے ساتھ ہمارا دیرینہ تعارف ہے اور اس کا آغاز اس وقت ہوا جب ڈاکٹر نجم الدین اربکان مرحوم عوامی تقریبات میں جماعت اسلامی کے قائدین کو مدعو کیا کرتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نوجوانوں کو مولانا مودودیؒ کی تفسیر قرآن کا مطالعہ کرنے کی تلقین کرتے ہیں اور تفاسیر قرآن میں سے تفہیم القرآن ترک نوجوانوں میں سب سے مقبول تفسیر ہے۔ انھوں نے کہا کہ مولانا مودودیؒ اور ڈاکٹر نجم الدین اربکانؒ کی شخصیات کی وجہ سے مسلمان ممالک میں امت کا تصور اجاگر ہوااور مسلمانوں کی رہنمائی کے لیے دونوں شخصیات نے تاریخی کردار ادا کیا۔ اس موقع پر ترک وفد میں نائب وزیر مذہبی امور ڈاکٹر سلیم ارگون اور ڈائریکٹر تعلقات خارجہ وزارت مذہبی امور اردل اتالا بھی موجود تھے۔