پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) نے کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ یونٹ-3 (K-3) کو قومی گرڈ سے جوڑ دیا ہے۔ 1100 میگاواٹ (MWs) پیداواری صلاحیت والے نیوکلیئر پاور پلانٹ (NPP) کو 21 فروری کو اسٹارٹ کر دیا گیا تھا اور اسے گرڈ سے منسلک کرنے سے پہلے کچھ حفاظتی ٹیسٹوں اور رائج طریقہ کار سے گزارا گیا۔آج اس پلانٹ کو آزمائشی بنیاد پر گرڈ سے منسلک کر دیا گیا ہے اور توقع ہے کہ مکمل پاور حاصل کرنے کے بعد جلد ہی اس کا افتتاح کر دیا جائے گا۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ K-3 پاکستان کا دوسرا NPP ہے جس کی پیداواری صلاحیت 1100 میگاواٹ ہے اور اس کے قومی گرڈ میں شامل ہونے سے یقینی طور بجلی کے نرخ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ K-3 کراچی کے قریب واقع ایک جیسے NPPs میں سے ایک ہے۔ دوسرا پلانٹ K-2 ہے، جس کا افتتاح پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ سال 21 مئی کو کیا تھا۔
پراجیکٹ کا سنگ بنیاد 26 نومبر 2013 کو رکھاگیاتھا اور نیشنل ریگولیٹر یعنی پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی (PNRA) سے منظوری ملنے کے بعد اس کی تعمیر شروع ہوئی جبکہ پی این آر اے سےکلیئرنس ملنے کے بعد دسمبر 2021 میں پلانٹ پر ایٹمی ایندھن کی لوڈنگ شروع کر دی گئی تھی۔
اس وقت ملک میں چھ نیوکلیئر پاور پلانٹس چل رہے ہیں جن میں سے دو کراچی میں واقع ہیں اور ان کا نام K-2 اور K-3 ہے، جبکہ چارضلع میانوالی میں چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹس کے نام سے چل رہے ہیں ہے۔ K-3 کے آنے سے ملک میں جوہری پاور پلانٹس کی پیداواری صلاحیت 3500 میگاواٹ سے زیادہ ہو جائے گی، جس سے انرجی مکس میں جوہری توانائی کے مجموعی حصہ میں خاطر خواہ بہتری آئے گی۔
جوہری توانائی محفوظ، قابل بھروسہ، اور زیرو کاربن کے اخراج کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔
چیئرمین PAEC محمد نعیم (HI, SI) نے اس موقع پر پراجیکٹ کی ٹیم اور پوری قوم کو مبارکباد دی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ PAEC بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے تحفظات کے تحت اپنے NPPs کو چلا کر قوم کی خدمت جاری رکھے گا۔