اسلام آباد:صدر پاکستان پیپلزپارٹی آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی چوہدری محمد یٰسین نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے چور مچائے شور پر ساٹھے تین سال گزار لیے لیکن اب ان کی حقیقت عوام کے سامنے آچکی ہے۔ان حکمرانوں نے صرف اگست 2018سے دسمبر 2021تک تین ہزار ارب کا قرضہ لیا اور ملک کو گروی رکھ دیا۔عام پاکستانی کا بال بال مقروض کر دیا ہے۔آٹا چور چینی چور صرف مچائے شور والی کہاوت ہے اور اب جب عوامی مارچ اسلام آباد کے قریب آرہا ہے تو یہ ان کے پاﺅں پکڑ رہے ہیں جن کو چور اور ڈاکو کہتے ان کی زبان نہیں تھکتی تھی۔اب تو ان کے تین سو ترجمان بھی غائب ہو چکے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے عوامی رابطہ مہم کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ عوامی مارچ حکمرانوں کے خلاف ریفرنڈم ہے اور عوام نے لاکھوں کی تعداد میں لانگ مارچ میں شامل ہو کر حکمرانوں کے خلاف اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔موجودہ حکمران پاکستان کیلئے ڈیزاسٹر ثابت ہوئے ہیں۔جس نے ہر شعبے میں تباہی مچا دی ہے انہوں نے کہا کہ عوام ان حکمرانوں کا سڑکوں چوک چوراہوں میں پیچھا کریں گے۔جلد ہی پاکستان میں پھر عوامی راج آرہا ہے چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پاکستان کھویا ہوا وقار بحال کرےگا۔مہنگائی اور بے روزگاری ختم ہو گی روٹی کپڑا اور مکان ہمارا نعرہ ہے اور عوام کو اس کی تعبیر دیں گے۔ان کرپٹ حکمرانوں کی طرح ایک کروڑ نوکریاں اور 50لاکھ گھر کے جھوٹے وعدے نہیں کرتے انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کے وہ جھوٹے حکمران ہیں جن پر نہ تو ملک سے باہر اعتبار کرنے کیلئے تیار ہے نہ تو ملک کے اندر کوئی یقین کرنے کو تیار ہے۔یہ یو ٹرن کے بادشاہ ہیں۔اپنی ہی کہی ہوئی بات کی تردید کر دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان حکمرانوں کے جانے کا وقت آگیا ہے یہ کشمیر کے سوداگر ہیں اور خدشہ ہے کہ ملک سے بھاگنے سے قبل یہ پاکستان کو کوئی نقصان نہ پہنچا دیں کیونکہ یہ اقتدار کیلئے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔پارلیمنٹ سے پی ٹی وی تک یہ حملے کر چکے ہیں۔عوام کے سامنے ان کے تمام ڈرامے فلاپ ہو چکے ہیں۔مزید ان پر عوام اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔
