اسلام آباد(نمائندہ جسارت) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عدم اعتماد والے شوق پورا کرلیں، ہماری تیاری مکمل ہے۔وزیراعظم کی زیرصدارت پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں شاہ محمود قریشی، اسد عمر، پرویزخٹک گورنر سندھ، پنجاب اور کے پی کے سمیت بابراعوان نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور بلدیاتی انتخابات پر مشاورت کی گئی۔مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے قانونی امور پر بریفنگ دی ، اجلاس میں جنوبی پنجاب صوبے کا بل قومی اسمبلی میں لانے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں عمران خان کا کہنا تھا کہ جمہوری حکومت کو کوئی خطرہ نہیں، چوروں کا ایجنڈا ناکام بنا دیں گے،جن کو مقدموں کا خطرہ ہے وہ لوٹی ہوئی دولت کے ذریعے انقلاب نہیں لاسکتے۔ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے جنوبی پنجاب صوبے کابل قومی اسمبلی میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔بعد ازاں وزیراعظم سے گورنرسندھ عمران اسماعیل اور سندھ سے پی ٹی آئی کے اراکین قومی اسمبلی نے ملاقات کی جس میں انہوں نے درخواست کی کہ سندھ کے لوگوں کے لیے بھی وفاقی فنڈز سے صحت کارڈ کا اجرا کیا جائے کیونکہ سندھ کی صوبائی حکومت اس مقصد کے لیے وسائل مختص کرنے کے لیے تیار نہیں۔وزیراعظم نے انہیں یقین دلایا کہ وہ سندھ کے عوام کے مفاد کے لیے اس سلسلے میں تمام ممکنہ آپشنز پر غور کر کے حل تلاش کریں گے۔وزیراعظم نے آج منگل کو ہونے والا وفاقی کابینہ کا اجلاس پھر ملتوی کر دیا ،یہ مسلسل تیسری مرتبہ ہے کہ وفاقی کابینہ کا اجلاس ملتوی کیا گیا،وزیراعظم اپوزیشن کی تحریک کو ناکام کرنے کے لیے سیاسی مشاورت میں مصروف ہیں۔ علاوہ ازیں وزیراعظم کی زیر صدارت اپیکس کمیٹی برائے نیشنل ایکشن پلان کا اجلاس ہوا۔ ایپکس کمیٹی نے پشاور حملے کی شدید مذمت کی اور حملے میں جان کی بازی لگانے والے شہدا کے لیے تعزیت کا اظہار کیا۔اس موقع پروزیر اعظم نے کہا کہ ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے مذموم عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے،دہشت گردی اور نفرت انگیز تقاریر قابل برداشت نہیں، پوری قوم بدامنی پھیلانے والے عناصر کو شکست دینے کے لیے متحد ہے،دہشت گرد عناصر کو عبرت کی مثال بنانے کے لیے مقدمات کے تیزی سے فیصلوں کی ضرورت ہے۔قبل ازیں احساس رعایت راشن اسکیم کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مہنگائی کی لہر پاکستان میں ہی نہیں پوری دنیا میں ہے، پاکستان اس وقت بھی سستا ملک ہے، مہنگائی پر قابو پانے کے لیے بہت بڑی سبسڈی دے رہے ہیں، ٹیکس وصولی بڑھی تو پیٹرول، ڈیزل اور بجلی سستی کر دی، 2 کروڑ خاندان احساس رعایت راشن اسکیم سے مستفید ہوں گے، رجسٹرڈ افراد کو آٹا، گھی اور دالیں 30فیصد سستی ملیں گی، لڑکیوں کو تعلیم دیے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا، رواں ماہ کے آخر تک سندھ کے سوا ہر صوبے میں ہیلتھ انشورنس کی سہولت مل جائے گی، کمزور طبقہ کو ترقی کے عمل میں شامل کرنا ریاست کی ذمے داری ہے۔ مزید برآں وزیر اعظم نے اپنے ٹویٹ میں کہاکہ انہوں نے یورپی یونین کونسل کے صدر چارلس مائیکل سے یوکرین کی صورتحال پر بات کی اور فوجی تنازع جاری رہنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے ترقی پذیر ممالک پر بدترین معاشی اثرات پر روشی ڈالی۔عمران خان نے کہا ہے کہ یوکرین کی صورتحال سے ترقی پذیر ممالک پر بدترین معاشی اثرات مرتب ہوں گے،یہاں حالات کو معمول پر لانے اور فوری سیز فائر کی ضرورت ہے۔