میرپورخاص(نمائندہ جسارت)2 ہزار ٹھیلے والوں سے دُکاندار یومیہ 200سے 500روپے فی ٹھیلا وصول کرنے لگے ، ٹریفک پولیس فی ٹھیلا یومیہ پچاس روپے سے ایک سو روپے وصول کرنے لگی، بلدیہ کا عملہ بلدیہ کا یومیہ ٹیکس دس روپے بغیر پرچی دیے وصول کرنے لگا یومیہ ہزاروں روپے حکومت کے خزانے کے بجائے عملہ کی جیبوں میں جانے لگا ، دُکانوں کے آگے ٹھیلے کھڑے ہونے کی وجہ سے 80فٹ کی سٹرک 6 فٹ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ، ٹریفک جام کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کر گیا۔تفصیلات کے مطابق میرپورخاص شہر میں ٹریفک جام کا مسلہ سنگین صورتحال سے دوچار ہو چکا ہے جگہ جگہ ٹھیلا اور رکشہ اسٹینڈ بن چکے ہیں مارکیٹ چوک پر موجود ایک ٹھیلے والے سے جب معلوم کیا گیا تو اس نے بتایا کہ میں جہاں کھڑا ہوں دُکاندار کو سٹرک پر کھڑے ہونے کے یومیہ 250روپے ادا کرتا ہوں نیو ٹاون میں ایک اور ٹھیلے والے بتا یا کہ میں یومیہ 500روپے دُکاندار کو ٹھیلا کھڑا کرنے کے دیتا ہوں مزید معلومات کرنے پر پتا چلا کہ بلدیہ میرپورخاص ٹیکس وصول کرنے والا عملہ دس روپے ٹیکس کی پرچی دینے جب جاتاہے تو دس روپے وصول کرتا ضرور ہے مگر پرچی کسی کو بھی نہیں دی جاتی ہے اس طرح یومیہ ہزاروں روپے ان کی جیبوں میں چلا جاتا ہے اس کے علاوہ ٹریفک اہلکار بھی فی ٹھیلا پچاس روپے وصول کر کے جو جہاں کھڑا ہے کھڑا رہے ٹریفک جام ہوتا ہے ہوتا ہے مارکیٹ چوک نیوٹائون سمیت دیگر جگہوں پر دُکانوں کے آگے ٹھیلے کھڑے ہونے کی وجہ سے 80فٹ کی سٹرکیں اب صرف 6فٹ تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں جہاں سے موٹر سائیکل تک نہیں گزر سکتی ہے اسی طرح رکشہ والوں نے بلدیہ شاپنگ سینٹر اور سیشن کورٹ کے سامنے غیر قانونی اسٹینڈ قائم کر رکھے ہیں جس کی وجہ سے ایم اے جناح روڈ مارکیٹ چوک پوسٹ آفس چوک پر ٹریفک جام رہتا ہے عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامیہ اس جانب فوری توجہ دے۔