ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

عمران خان اب عزت سے مستعفی ہوجائیں

چودھری پرویز الٰہی کے تازہ بیان سے ثابت ہوا کہ ابھی حکومت کے رہنے یا جانے کے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ گیم آن ہے! میں بہت پہلے سے یہ بات کر رہا ہوں کہ عمران خان حکومت کے جانے یا بچنے کے متعلق جو ہوگا اُس کا تعلق ق لیگ یعنی چودھری برادارن کے فیصلہ سے ہو گا۔ ایک روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں چوہدری پرویز الٰہی نے وہ کچھ کہا جس کی توقع نہیں تھی لیکن آج اُنہوں نے اُس کے بالکل برعکس ایک بیان جاری کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سارا سیاسی کھیل کافی گھمبیر ہے اور کس وقت کیا ہو کسی کو خبر نہیں۔ کل تک صورت حال بالکل مختلف اور حکومت کے خلاف تھی لیکن آج معاملات تبدیل ہونا شروع ہو گئے۔ گذشتہ دو دنوں سے مجھے حکومتی ذمہ دار کہہ رہے تھے کہ بس ایک دو دن انتظار کر لیں دیکھیے گا سب کچھ بدلنا شروع ہو جائے گا۔
تاہم یہ صورتحال اس وقت دلچسپ صورتحال اختیار کر گئی جب پی ٹی آئی کے 24 اراکین سندھ ہاؤس میں موجود پائے گئے۔ جس سے واضح ہے کہ عمران خان صاحب اکثریت کھو چکے ہیں۔ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ لاجز میں انصار الاسلام کی موجودگی پر پولیس اہلکاروں کی طرف سے آپریشن کیے جانے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی سندھ ہاؤس اسلام آباد منتقل ہوئے۔ سندھ ہاوس کے دونوں دروازوں کو مکمل بند کیا گیا، سندھ ہاوس کے حوالے سے انتظامیہ اور پولیس نے سر جوڑ لئے۔حکومت کی جانب سے ہارس ٹریڈنگ کے الزامات اور ارکان اسمبلی کو پیسے دیے جانے کے سوال پر راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں کسی نے کوئی پیسے نہیں دیے۔ ملک میں ایک عرصے سے جاری خراب حکمرانی، لا قانونیت، مہنگائی، کرپشن اور مشیروں کے خلاف ہم عمران خان کے سامنے آواز اٹھا رہے تھے لیکن ہمیں سنا نہیں گیا۔ اب فیصلہ ضمیر کی آواز پر کریں گے۔ ‘
سندھ ہاؤس میں موجود پی ٹی آئی کے اراکین میں راجہ ریاض، نواب شیر وسیر، رانا قاسم نون، غفار وٹو، نورعالم خان، ریاض مزاری، باسط بخاری، احمد حسن ڈیہڑ، رمیش کمار، ‏نزہت پٹھان اور وجیہہ قمر اکرم کے نام سامنے آئے ہیں۔ اس صورتحال سے یہ واضح ہے کہ وزیراعظم عمران خان بس غیر آئینی اقدامات اٹھا کر ہی اپنے اقتدار کو طول دے سکتے ہیں، باہر تو عدم اعتماد کامیاب ہو چکا، ان کی حکومت گر چکی ہے۔ملک میں جو سیاسی ماحول بن رہا ہے، اس نے سب کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ صورتحال کافی سنجیدہ اور ایک خطرناک موڑ پر پہنچ چکی ہے، وزیراعظم عمران خان آئین کے تحفظ کیلئے کچھ کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں، کوشش کرنی چاہیے کہ ملکی آئین کے اندر رہتے ہوئے ہی سب کچھ ہو۔ سندھ ہاؤس میں موجود  اراکین کو گن لیں تو اپوزیشن کے پاس نمبر گیم 200 سے اوپر چلا جاتا ہے۔ اب اس میں روز بروز اضافہ ہی ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان اسے تسلیم کر لیتے ہیں تو معاملہ حل ہو جائے گا لیکن اگر انہوں نے اسے ماننے سے انکار کرتے ہوئے اپنے اختیارات کا استعمال کیا تو صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔عمران خان گورنر راج لگانے کا سوچ رہے ہیں جو کہ اتنا آسان نہیں ہے۔ عمران خان کے اقتدار کا کھیل اب ختم ہو چکا ہے۔ اب ان کے پاس اسے روکنے کیلئے غیر آئینی طریقے تو ہیں لیکن کوئی آئینی طریقہ نہیں ہے۔ تاہم یہ جو مرضی کر لیں اب ان کی کرسی نہیں بچے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ایمرجنسی لگانے اور سندھ میں گورنر راج کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ بدنام کرنے کیلئے کچھ ویڈیوز دکھانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں جبکہ ایسے اہم اعلان کے بارے میں بھی کہا جا رہا ہے جس سے ملک میں افراتفری پھیل جائے گی۔
 وزیر اعظم اپوزیشن پر ہارس ٹریڈنگ کا الزام لگا رہے ہیں حالانکہ دوسری پارٹیوں کے ارکان خریدنے اور انہیں مختلف قسم کے لالچ دے کر بہلانے پھسلانے کا حقیقی اختیار حکمران جماعت کے پاس ہوتا ہے۔ کسی بھی سیاسی بحران کی صورت میں اس اختیار کو استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ تحریک انصاف نے بھی اقتدار میں ساڑھے تین سال کی مدت کے دوران اس طریقہ کو بار بار کامیابی سے استعمال کر کے اپوزیشن کو نیچا دکھایا ہے۔ اسی لئے ہارس ٹریڈنگ کے الزامات عام طور سے کسی مشکل سیاسی صورت حال میں اپوزیشن پارٹیاں عائد کرتی ہیں۔ لیکن عمران خان کی حکمرانی میں یہ گنگا بھی الٹی بہائی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم خود اپوزیشن پارٹیوں پر اپنی پارٹی کے ارکان کو کثیر نقد رقم کے عوض وفاداری خریدنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ حالانکہ اگر ایسی کوئی صورت حال موجود ہے اور حکومت کے پاس اس کے ٹھوس معلومات اور شواہد فراہم ہیں تو الزام تراشی کے ذریعے درجہ حرارت بڑھانے کی بجائے، یہ ثبوت عام کر کے یا عدالتوں کے ذریعے انہیں پیش کر کے متعلقہ ارکان اور سیاسی لیڈروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی تھی۔
الزام تراشی اور نعرے بازی سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعظم اور ان کے ساتھی رائے عامہ کو تقسیم کرنے اور سیاسی مقاصد کے لئے کرپشن کی طرح اس نعرے کو بھی استعمال کر کے موجودہ بحران سے نکلنا چاہتے ہیں۔ اسی مقصد سے اپوزیشن لیڈروں کی کرپشن کو ہارس ٹریڈنگ کے لئے مبینہ طور سے ادا کی جانے والی کثیر رقوم کی ادائیگی کے الزام سے ملا کر عوام کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ان لیڈروں نے چونکہ قوم کو لوٹا ہے، اسی لئے ان کے پاس اتنی ناجائز دولت ہے کہ وہ اسمبلی ارکان کو بھی خرید سکتے ہیں۔ عمران خان اس سیاسی ہتھکنڈے کی ہلاکت خیزی اور اس کی وجہ سے قومی سیاست میں پیدا ہونے والی تقسیم کے خطرناک مضمرات جاننے پر آمادہ نہیں ہیں کیوں کہ وہ کسی بھی قیمت پر کرسی سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں۔
اس صورت میں انہیں چاہیے کہ عوامی مہم جوئی اور سیاسی جلسوں میں ماحول کو تلخ و زہریلا بنانے کی بجائے، قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کر اپنا مقدمہ عوامی نمائندوں کے سامنے پیش کریں۔ ملک کے مسلمہ آئینی طریقے سے منتخب ہونے والے ارکان اگر ان کی بات مان لیں تو وہ بدستور وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیتے رہیں، اگر وہ ان پر مزید بھروسا کرنے پر راضی نہ ہوں تو اپوزیشن بنچوں پر بیٹھ کر کردار ادا کرنے کی کوشش کریں۔ یہی مہذب، جمہوری، آئینی اور سیاسی طریقہ ہے۔ نام بگاڑنا، دھمکیاں دینا، راستہ روکنا، ہارس ٹریڈنگ کے الزام لگانا یا عالمی سازشوں کا انکشاف کرنا ناجائز اور ناقابل قبول ہتھکنڈا ہے۔ اسے اختیار کرنے والے کے بارے میں یہی کہا جائے گا کہ وہ ایک ہارا ہوا لیڈر ہے اور شکست قبول کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔
جمعتہ المبارک، 18 مارچ 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post عمران خان اب عزت سے مستعفی ہوجائیں appeared first on شفقنا اردو نیوز.

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں