ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بشریٰ بی بی میرے سخت خلاف ہیں، عامر لیاقت

تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین نے کہا ہے کہ میں لمحہ لمحہ بشریٰ بھابھی کے لیے لڑتا رہا، آج بتا رہا ہوں کہ وہ میرے سخت خلاف ہیں لیکن اب چونکہ ساتھ چھوٹنے والا ہے کہہ دیا ہے چھوڑ جاؤں گا، پھر تم لوگوں کو میری موجودگی پر تاسف نہیں ہوگا، مگر بھابھی میں جانتا تھا، پر میرا ظرف دیکھیے۔

گذشتہ روز سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹس میں عامر لیاقت نے لکھا کہ مصیبت کے وقت بھائی سے کچھ مانگا نہیں جاتا۔ دھمکی دے کر کچھ لے کر ووٹ نہیں دیا جاتا۔ رنڈی کے بچوں (جن کی امیاں پنجاب میں بیوہ ہو گئی ہیں) تم نے مجھے ہمیشہ کہا میں بلیک میلر ہوں۔ خان کو دھمکی دیتا ہوں۔ بس اتنا بتا دو کیا لے لیا خان سے؟ آج بھی اپنے بھائی کے ساتھ کھڑا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نیوٹرل ہوں، اور کیوں ہوں؟ خان صاحب نے بھی پوچھا میں نے عرض کیا آپ کی محبت میں ٹی وی کیرئیر چھوڑ دیا۔ میر شکیل الرحمن اور اپنے بھائی ابراہیم سے دور ہوا، گھر بیچ کر گھر چلایا؟ کیا کوئی خرید سکتا ہے مجھے؟ نہیں، قطعاً نہیں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں مگر آپ نے مجھے ضائع کردیا! انمول ہوں خان صاحب۔

عامر لیاقت نے لکھا کہ میں نے ہمیشہ یہی آواز بلند کی کہ غیر منتخب افراد ہمیں لے ڈوبیں گے اور محنت سے الیکشن لڑ کر اسمبلی تک خان صاحب کو ووٹ دے کر وزیراعظم بنانے والے کڑھ کڑھ کر ایک دن پھٹ جائیں گے جنہیں کوئی بھی سہارا دے دے گا اس پر طرفہ تماشا یہ کہ سوشل میڈیا ٹیم کے ذریعے انہیں ذلیل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ باریک نکتہ یہ ہے کہ یہ تحریک عدم اعتماد” ہے ایک قرارداد ہے، قرارداد پر رائے دینے کا ہر رکن پارلیمنٹ کو بولنے سے لے کر وقٹ دینے تک کا حق ہے۔ عدم اعتماد میں اہم نکات شامل ہیں۔ مہنگائی، ریاست مدینہ بار بار بولنا، بدتریُن گورننس اور نااہل افراد اور غیر منتخب مشیران کا تسلط۔

رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ صورتحال مسلسل پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ سب سے عرض کروں گا جانے والوں کو کچھ نہ کہیں کچھ ماہ کی بعد ہے یہ سب واپس آئیں گے۔ اس وقت اب کی کوئی نہ کوئی مجبوری ہے۔ خان صاحب سے بھی اس پر تفصیلی بات ہوئی ہے۔ میں بے کہا تھا ایم کیو ایم جائے گی مجبور ہے؟ ق اور باپ بھی اڑ جائیں گے۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں