کولمبو (انٹرنیشنل ڈیسک) سری لنکا میں سنگین معاشی بحران کے تناظر میں کابینہ کے تمام وزیر مستعفی ہو گئے۔ سری لنکا میں رات گئے اجلاس کے دوران کابینہ کے تمام وزرانے اجتماعی طور پر اپنے استعفے پیش کیے،جس کے بعد حکومت نئی کابینہ کا تقرر کرے گی۔ دوسری جانب صدر گوٹابایا راجا پاکسے اور ان کے بھائی وزیراعظم مہندا راجا پاکسے نے کرسی چھوڑنے سے انکارکردیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق سری لنکا میں جاری معاشی بحران کے بعد اب سیاسی بحران بھی زور پکڑ گیا ہے۔ شہری صدر اور وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اتوار کے روز ہزاروں افراد ملک گیر کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے باہر سڑکوں پر نکل آئے تھے اور معاشی بحران سے نمٹنے میں حکومت کی ناکامی کے خلاف زبردست احتجاج کیاتھا۔ استعفا دینے والوں میں وزیر خزانہ باسل راجا پاکسے، وزیر زراعت چمل راجا پاکسے اور وزیر کھیل نمل راجا پاکسے سمیت کابینہ کے 26 وزراشامل ہیں۔ کولمبو میں اپوزیشن کے ارکان نے بھی کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی ۔ ادھر غیرملکی سفارتکارو ں نے سری لنکا میں نافذایمرجنسی پرتشویش کا اظہارکیا ہے۔ ایمرجنسی کے تحت فوج کوکسی بھی شخص کوگرفتارکرنے اورقید کرنے کے اختیارات دیے گئے ہیں۔