ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

عیسیٰ گوٹھ کے مکینوں کی استدعا مسترد، قبضے ختم کرانے کا حکم

کراچی :سندھ ہائی کورٹ نے تجاوزات کے خلاف عیسیٰ گوٹھ کے مکینوں کی استدعا مسترد کرتے ہوئے قبضے ختم کرانے کا حکم دے دیا۔ کراچی میں فیڈرل بی ایریا بلاک 7 میں غیر قانونی تعمیرات کے کیس میں ایف بی ایریا میں قائم عیسیٰ گوٹھ کے مکینوں نے بھی عدالت سے رجوع کیا۔

عدالت نے تجاوزات کے خلاف عیسی گوٹھ کے مکینوں کی استدعا مسترد کرتے ہوئے تمام تر قبضے فوری ختم کرانے کا حکم دیا کہ فیڈرل بی ایریا بلاک سیون کے پارک، کھیل کے میدان بحال کیے جائیں۔جسٹس سید حسن اظہررضوی نے ریمارکس دئیے کہ فیڈرل بی ایریا میں گوٹھ کہاں سے آگیا؟۔عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ 1987 میں گوٹھ آباد سکیم پرانے گوٹھوں کو ریگولرائزڈ کرنے کے لیے تھی۔

جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے کہا کہ یہ کراچی میں دو سو، تین سو گوٹھ کیسے بنائے گئے؟ کراچی میں 2010ء کے بعد نئے گوٹھ آباد کس قانون کے تحت بنائے؟۔ڈپٹی اے جی نے بتایا کہ ان گوٹھوں کی سند منسوخ کی جا چکی۔وکیل عیسی گوٹھ نے موقف پیش کیا کہ ہمیں باقاعدہ سند جاری کی گئی جس پر عدالت نے کہا کہ گجرنالہ کے گھروں کی لیزز بھی اسی طرح ختم ہوئیں۔ جس طرح لیزز جاری کی گئیں سپریم کورٹ نے سب ختم کردیں۔

جسٹس سید اظہررضوی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب کچھ نہیں ہو سکتا۔درخواست میں موقف پیش کیا گیا کہ فیڈرل بی ایریا میں کھیل، پارک کی اراضی سے قبضے ختم کرانے جائیں۔ جس جگہ پر گوٹھ بنایا گیا وہاں پارک، کھیل کے میدان تھے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں