جمعے کے روز صدر جو بائیڈن نے سپریم کورٹ کے لیے اپنی نامزد کردہ جسٹس کیٹانجی براؤن جیکسن کی کانگریس سے توثیق کے بعد ان کا باضابطہ خیر مقدم کیا۔اس کے لیے وائٹ ہاؤس کے لان میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے اسے امریکی تاریخ میں تبدیلی کا ایک "حقیقی لمحہ” قرار دیا۔
امریکی دارالحکومت میں بہار کے ایک روشن دن، وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان میں پس منظر میں لہراتے امریکی جھنڈوں کے ساتھ صدر بائیڈن نے اسے امریکی تاریخ کا ایک سنگِ میل قرار دیا، ” ہم مڑ کر دیکھیں گے تو اسے امریکی تاریخ میں حقیقی تبدیلی کا ایک لمحہ پائیں گے۔”
جسٹس جیکسن کا استقبال حاضرین نے کھڑے ہو کر کیا۔ اپنے خطاب میں جیکسن نے صدر بائیڈن کا شکریہ ادا کیا اور کہ کہا،” توثیق کے بعد یہاں موجود ہونا میرے لیے میری زندگی کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔ "
انہوں نے کہا اعلیٰ عدالت میں وہ فیصلے کرنے کے لیے آزاد ہوں گی،” بلا خوف اور بلا کسی حمایت کے، نگاہیں قانون کی حکمرانی پر جمائے ہوئے۔”
اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جیکسن کی آنکھیں آبدیدہ تھیں۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ اس واقعے پر پورے ملک کو فخر ہونا چاہئیے۔
انہوں نے کہا،” اپنی یونین کوکامیاب بنانے کے لیے ہم نے بہت جدوجہد کی ہے۔” انہوں نے مزید کہا، ” میرے خاندان میں نسلی امتیاز سے سپریم کورٹ تک پہنچنے میں صرف ایک نسل کا فاصلہ ہے۔”
جیکسن کی توثیق صدر بائیڈن کے لیے خود ایک تاریخی کامیابی ہے۔ کیٹانجی براؤن جیکسن پہلی افریقی امریکی خاتون ہیں جنہیں صدر بائیڈن نے سپریم کورٹ کے لیے نامزد کیا تھا اور جو امریکہ کی عدالتِ عظمیٰ میں جسٹس کی حیثیت حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوئیں جہاں تقریباً دو صدیوں تک سفید فام مردوں کا غلبہ رہا ہے۔
بار بار آنکھوں میں آئے آنسوؤں کے درمیان جج جیکسن نے کہا ،”ایک افریقی امریکی خاتون کے ریاستہائے متحدہ امریکہ کی سپریم کورٹ تک پہنچنے میں 232 سال لگے جبکہ اس سے پہلے 115 نامزدگیاں ہوئیں۔ لیکن ہم کامیاب ہوئے۔ یہ ہم سب کی کامیابی ہے۔”
انہوں نے کہا،” میں نے اپنی راہ پر قائم رہنے کی بہترین کوشش کی تاکہ وہ نتیجہ حاصل کر سکوں جو قانون کے بارے میں میرے علم سے مطابقت رکھتا ہے اور جو مجھے بغیر کسی خوف اور کسی کی حمایت کے آزادانہ فیصلے کرنے کی ذمے داری تفویض کرتا ہے۔”
وائٹ ہاؤس کے لان پرجیکسن کے یہ ریمارکس ہو سکتا ہے ان کا پبلک میں دیا آخری بیان ہو۔ وہ اس موسمِ گرما کے آغاز تک سپریم کورٹ میں اپنا منصب نہیں سنبھال سکیں گی اور اکتوبر تک کوئی کیس بھی نہیں سنیں گی۔
عام طور پر جج حضرات پبلک میں بیانات نہیں دیتے بلکہ اپنے ابتدائی برسوں میں عدالت میں بھی زیادہ بات نہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
امریکی سیاست میں افریقی امریکی خواتین کا بہت اہم کردار ہے اور ڈیموکریٹک پارٹی کو خاص طور پر ان کی حمایت حاصل ہے۔ 2020 کے صدارتی انتخابات میں ساؤتھ کیرولائنا کے پرائمری انتخاب میں صدر بائیڈن کی کامیابی میں افریقی امریکی خواتین کا بہت بڑا کردار رہا اور یہی کامیابی جو بائیڈن کے صدارتی امیدوار کی حیثیت سے پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے کا باعث بنی۔
صدر بائیدن نے اپنی انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا کہ وہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے لیے ایک افریقی امریکی خاتون کو نامزد کریں گے۔
جمعرات کو امریکی سینٹ نے 47 کے مقابلے میں 53 ووٹوں سے جیکسن کی، جو وفاقی اپیل کورٹ کی جج رہ چکی ہیں، سپریم کورٹ کی تاحیات جسٹس کی حیثیت سے توثیق کی۔ اسے امریکہ میں ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے اور ڈیمو کریٹک صدر جو بائیڈن کے لیے ایک سیا سی فتح سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔
اکیاون سالہ کیٹانجی براؤن جیکسن، جون میں 83 سالہ جسٹس سٹیفن برئیر کے ریٹائر ہونے کے بعد ان کی جگہ اپنا منصب سنبھالیں گی تاہم اس سے پہلے وہ وفاقی اپیل کورٹ کی جج کی حیثیت سے کام کرتی رہیں گی مگر کیسز کے فیصلوں سے خود کو الگ رکھیں گی۔
صدر بائیڈن نے تقریب کے حاضرین سے خطاب میں کہا،” میں اسے امید کے دن، وعدہ وفا ہونے کے دن، ترقی کے ایک دن اور ایک ایسے دن کے طور پر دیکھتا ہوں جیسا کہ صدر باراک اوباما کہا کرتے تھے، وہ دن جب دنیا میں اعلیٰ اخلاق کی کمان انصاف کی جانب مزید جھک جائے۔میں پورا یقین رکھتا ہوں کہ ہمیں ایک ایسی عدالت کی ضرورت ہے جو امریکہ جیسی نظر آئے۔ "
وائٹ ہاؤس کے لان میں اس تقریب میں صدر بائیڈن کے ایک جانب نائب صدر کاملہ ہیرس بھی موجود تھیں وہ بھی پہلی غیر سفید فام خاتون ہیں جو امریکہ میں نائب صدر کے عہدے پر فائز ہوئی ہیں۔