ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

۔2017 کی مردم شماری پر حلقہ بندیاں کراچی سے زیادتی ہوگی،حافظ نعیم

 جماعت اسلامی کے تحت ادارہ نورحق میں معززین کے اعزاز میں دعوت افطار سے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ، جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی عبدالاکبر چترالی ، نائب امیر کراچی مسلم پرویز خطاب کررہے ہیں

کراچی(نمائندہ جسارت)امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ 2017ء کی مردم شماری اور پرانی حلقہ بندیوں پر انتخابات کراچی کے ساڑھے 3 کروڑ عوام کے ساتھ سراسر ظلم و زیادتی ہوگی ،ہمارا مطالبہ ہے کہ وفاقی حکومت کراچی میں ہنگامی بنیاد پر مردم شماری کرائی جائے اور کراچی کی اصل آبادی کی بنیاد پر قومی وصوبائی اسمبلیوں میں نمائندگی اور وسائل فراہم کیے جائیں ،سندھ حکومت جماعت اسلامی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے مطابق فوری طور پر بلدیاتی ایکٹ 2021ء میں ترامیم کرکے کراچی میں بااختیار شہری حکومت کا نظام وضع کرے ، کے فور منصوبہ اس کے اصل پلان 650ملین گیلن کے مطابق فی الفور مکمل کیا جائے ،کے الیکٹرک کی سرکاری سرپرستی اور اجارہ داری ختم کی جائے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کے تحت ادار ہ نورحق میں معززین کے اعزاز میں دعوت افطار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔دعوت افطار سے جماعت اسلامی رکن قومی اسمبلی عبد الاکبر چترالی ، نائب امیر کراچی مسلم پرویز ودیگر نے بھی خطاب کیا ۔دعوت افطار میںمختلف دینی وسیاسی جماعتوں کے رہنما ،وکلا ،صحافی ،علما کرام ،تاجر رہنماؤں ،سول سوسائٹی کے نمائندوں اور مختلف شعبہ زندگی سے وابستہ افراد نے شرکت کی ،کے الیکٹرک کی نااہلی و ناقص کارکردگی کے باعث شہر بھر میں لوڈ شیڈنگ غیر معمولی طورپر بڑھ گئی ہے اور سحروافطار کے اوقات سمیت رات میں بھی عوام کو بجلی سے محروم کیا جارہا ہے ۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہاکہ سیاسی نظام کے استحکام کے لیے جمہوریت کا استحکام بہت ضروری ہے اور اس کے لیے سب سے پہلے مرحلہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اندر بھی جمہوریت ہو ،صرف خاندانوں اور موروثیت کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں کی قیادت کا فیصلہ نہ ہو ،سیاست اور سیاسی جماعتوں کے اندر سے موروثیت کے خاتمے کے لیے تمام سیاسی کارکنوں کو بھی جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے ،بلدیاتی اداروں کا کردار تعمیر و ترقی میں بہت اہم ہے لیکن افسوس کہ بلدیاتی ادارے بااختیار نہیں ہیں اور آئین کے اندر بھی ان کے حوالے سے الگ چیپٹر موجود نہیں ہے جس طرح وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے لیے موجود ہے ،بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے کے لیے آئین میں ان کو تحفظ دینا ضروری ہے اور اس کے لیے آئین میں الگ چیپٹر قائم کیا جائے ،جمہوریت کے استحکام کے لیے اس کی نرسری طلبہ یونین کے انتخابات کو برسوں سے پابند رکھا گیا ہے ، ان کے انتخابات کرانے سے بھی جمہوری نظام اور ملک کو نئی قیادت ملے گی ۔ جماعت اسلامی نے بلدیاتی نظام ، بااختیار شہری حکومت کے قیام کے لیے 29دن کا تاریخی اور کامیاب دھرنا دیا، پیپلزپارٹی اورسندھ حکومت سے ہمارا معاہدہ ہوا اور اب ہم چاہتے ہیں کہ اس معاہدے کے تحت ترامیم کرائیں ۔کراچی کے وسائل اور شہری ادارے اسے واپس کیے جائیں ،بااختیار شہری حکومت کے قیام کو یقینی بنایا جائے ۔ہم سیاسی نظام کی اصلاح اور انتخابات کو شفاف بنانے اور عوام کی حقیقی نمائندگی کو آگے لانے کے لیے ملک میں متناسب نمائندگی کی بنیاد پر انتخابات چاہتے ہیں ۔کراچی آج بھی 54فیصد ایکسپورٹ اور 42فیصد ٹیکس اور67فیصد ریونیو دیتا ہے لیکن اس کو اس کا حق نہیں دیا جاتا ،2017ء میں مردم شماری میںکراچی کی آدھی آبادی کو غائب کردیا گیا ،5فیصد بلاک کھولنے کی بات تو کی گئی مگر کھولے نہیں گئے اور کراچی کا حق مارا گیا ۔ہم چاہتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات ہوں لیکن اگر 2017ء کی جعلی مردم شماری اور اس کی بنیاد پر حلقہ بندیاں ہوں تو یہ کراچی کے ساڑھے 3 کروڑ عوام کے ساتھ سراسر ظلم وزیادتی ہوگی ۔کے فور کا منصوبے کا اصل پلان 650ملین گیلن تھا مگر اسے کم کر کے 260ملین گیلن کردیا تھا اور یہ بھی ابھی معلوم نہیں کہ کب مکمل ہوگا ۔کے الیکٹرک کی بھی ہر حکومت نے سرپرستی کی اور اسی وجہ سے اس کمپنی نے کراچی کے عوام سے لوٹ مار کی ہے ہم کہتے ہیں کہ اس کمپنی کی اجارہ داری ختم کی جائے ۔دعوت افطار میں پیپلزپارٹی کے پروفیسر این ڈی خان ، مسلم لیگ ن کے نہال ہاشمی ، جے یو آئی (ف )کے محمد اسلم غوری ،جے یو آئی (س )کے قاری احمد علی ،جے یو پی کے مستقیم نورانی ، پاکستان عوامی تحریک کے مظہر راہوجا ،جمعیت اہلحدیث کے افضل سردار، سینئر کالم نگار و تجزیہ کار نصرت مرزا،پی ڈی پی کے بشارت مرزا ، آباد کے چیئرمین محسن شیخانی ، جماعت اسلامی کراچی کے نائب امرا برجیس احمد ، راجا عارف سلطان ، محمد اسحق خان ،سلیم اظہر ،سیکرٹری کراچی منعم ظفر خان ، ڈپٹی سیکرٹری حافظ عبد الواحد شیخ ، انجینئر عبد العزیز ،عبد الرزاق خان ، راشد قریشی ، نوید علی بیگ ،عبد الرحمن فدا،سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری ودیگر نے شرکت کی ۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں