جرمنی کے چانسلر اولاف شولز نے کہا ہے کہ” یوکرین جیسے عالمی غذائی تحفظ میں اہم کردار ادا کرنے والے ممالک کی غذا سے محرومی کا خطرہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ یہ خطرہ بھوک کا پیش خیمہ ثابت ہو گا”۔
اولاف شولز نے جرمنی کے دورے پر تشریف لانے والے ارجنٹائن کے صدر البرٹو فرنانڈز کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں شرکت کی۔
کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا ہے کہ "روس۔یوکرین جنگ صرف دو ممالک تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے نتائج پوری دنیا کو بھگتنا پڑیں گے”۔
جنگ کی وجہ سے خوراک کی ترسیل میں رکاوٹوں کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہوئے شولز نے کہا ہے کہ "اب توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ خطرہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ دنیا کی غذائی سلامتی میں اہم کردار ادا کرنے والے یوکرین جیسے ممالک خوراک تک رسائی حاصل نہیں کر سکیں گے۔ یہ خطرہ بھوک جیسے مسئلے کا پیش خیمہ ثابت ہو گا”۔
ارجنٹائن کے صدر البرٹو فرنانڈز نے کہا ہے کہ لاطینی امریکہ جنگی نتائج سے تکلیف اٹھا رہا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ” روس پر پابندیاں صرف روس کو ہی نہیں پوری دنیا کو متاثر کر رہی ہیں”۔
فرنانڈز نے جنگ کی وجہ سے خوراک اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی طرف توجہ مبذول کروائی اور کہا ہے کہ "یہ مسئلہ اب صرف نیٹو اور روس کا یا پھر یوکرین اور روس کا باہمی مسئلہ نہیں ہے ۔ یہ مسئلہ اب پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔ اس جنگ کو بند ہونا چاہیے”۔
واضح رہے کہ روسی فوجیوں نے 24 فروری کو یوکرین پر حملہ کر دیا تھا۔