اس وقت پاکستان کو دو نوعیت کے شدید مسائل کا سامنا ہے، ایک سیاسی عدم استحکام اور دوسرا معاشی بحران۔ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد اتحادی جماعتوں کی تشکیل پانے والی حکومت اور بعض سیاسی حلقوں کا خیال تھا کہ سیاسی معاملات ہموار طریقے سے آگے کی طرف بڑھیں گے، مگر ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔کچھ سیاسی و سماجی حلقوں کے مطابق عمران خان کا یہ کہنا ’حکومت سے باہر آ کر زیادہ خطرناک ہو جاؤں گا‘، بظاہر درست ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور اِن کے فوری انتخابات کے مطالبے کی بدولت سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا ہے۔ سیاسی عدم استحکام میں مزید شدت معاشی بحران نے پیدا کر دی ہے۔ اس وقت ڈالر اُونچی اُڑان میں ہے۔ اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور میاں شہباز شریف کی حکومت سخت فیصلے لینے سے گھبرا رہی ہے۔
اتحادی حکومت جب اقتدار میں آئی تو اس کا خیال تھا کہ اسے ملکی معیشت کو ٹھیک اور سیاسی صورتحال کو بہتر کرنے کیلئے اگلے سال تک مہلت ملی ہے۔ یقیناً یہی بات ان کو اسٹیبشلمنٹ کی جانب سے بھی کہی گئی تھی۔ اسی لئے حکومت نے کابینہ کی تشکیل میں بھی دیر لگائی اور فوری طور پر کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے۔ حتیٰ کے نیب قوانین میں ترمیم اور انتخابی اصلاحات کے حوالے سے جو باتیں کی جاتی رہیں، اس کیلئے بھی کچھ نہیں کیا گیا۔اتحادیوں کا یہی خیال تھا کہ ہم ڈیڑھ پونے دو سال کی مدت کیلئے اقتدار میں آئے ہیں اور اسٹیبشلمنٹ کیساتھ تعاون کرتے ہوئے آئی ایم ایف کیساتھ معاہدے سمیت تمام مشکل فیصلے کریں گے اور اس کی ذمہ داری لیں گے۔ خواہ وہ کتنے ہی ان پاپولر ہی کیوں نہ ہوں۔ اس کے بعد ہی عام انتخابات کی طرف جائیں گے۔
لیکن یہ صرف اتحادیوں کا خیال ہی تھا، اگرچہ اسٹیبلشمنٹ کیساتھ ان تمام معاملات پر انڈرسٹیڈنگ کی گئی تھی۔ تاہم اقتدار سے نکلتے ہی عمران خان کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے اوپر بہت زیادہ دبائو ڈالا جانے لگا۔ اسٹیبشلمنٹ نے شاید سوچا تھا کہ عمران خان کے جانے کے بعد ان کا اتنا زیادہ پریشر ان پر نہیں آئے گا۔ ان کا خیال تھا کہ ایک تو عمران خان باآسانی آئینی طریقے سے گھر چلے جائیں گے اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے بطور اپوزیشن اپنا کردار ادا کریں گے، جس طرح پہلی حکومتی نکالی گئیں وہ بھی باہر نکل کر ایک دو جلسے کریں گے اور معاملہ ختم ہو جائے گا۔ لیکن عمران خان پہلے ہی وارننگ دے چکے تھے کہ میں اقتدار سے نکلا تو اور زیادہ خطرناک ہو جائوں گا۔ اور وہ اب حقیقت میں خطرناک ہو چکے ہیں۔ ان کی سوشل میڈیا ٹیم نے جس طرح کے ٹرینڈ چلائے اس سے اسٹیبشلمنٹ پر بہت اثرا پڑا۔
ایک اہم سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آصف زرداری حکومت بچانے کیلئے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت کی بھرپور کوششیں کرینگے لیکن اس کی کامیابی ففٹی ففٹی ہے، تاہم ایسا کرنے سے ان کو تھوڑا ٹائم ضرور مل جائے گا۔ زرداری شاید نواز شریف کے سامنے دعویٰ کریں کہ میں تمام معاملات سنبھال لوں گا اور اسٹیبشلمنٹ سے کہیں کہ پلیز ہمیں حکومت چلانے دیں تاہم اگر اسٹیبشلمںٹ نے ان کو کوئی گارنٹی نہ دی تو پھر زرداری صاحب کہاں جائیں گے؟اگر ڈیڑھ سال والا تجزبہ کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کا زرداری کو بڑا ہی فائدہ ہے۔ ان کے صاحبزادے کو وزیر خارجہ کا عہدہ مل چکا ہے۔ پہلے انہوں نے امریکا جا کر اپنے تعلقات بنائے ہیں، اب کو چین جا رہے ہیں۔ زرداری صاحب تو ان کو مستقبل کیلئے تیار کر رہے ہیں۔ حکومتی کارکردگی، آئی ایم ایف کیساتھ معاہدہ اور ملک کے معاشی مسائل جیسے دیگر معاملات حل کرنے کی بھاری ذمہ داری تو اس وقت اکیلے ن لیگ کے کاندھوں پر آ چکی ہے۔
ن لیگ کی جانب سے جب تک فوجی قیادت کو اس کی حدود کے بارے میں دوٹوک الفاظ میں بتایا نہیں جائے گا، ملک کی سیاسی حکومتیں مسائل کے بوجھ تلے دبی رہیں گی اور فیصلوں کے لئے غیرمتعلقہ حلقوں کی محتاج رہیں گی۔ کسی سیاسی حکومت کو کبھی یہ اختیار پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیا جائے گا۔ بلکہ آئین سے حاصل شدہ طاقت کے ذریعے یہ اختیار چھیننا پڑے گا۔ حکومت کی اتحادی جماعتیں اگر اس اصولی فیصلہ پر مسلم لیگ (ن) کا ساتھ نہ دیں تو شہباز شریف تمام حالات سے قوم کو آگاہ کر کے اپنے عہدے سے علیحدہ ہوجائیں تاکہ عوام کو علم ہوجائے کہ کون اسٹبلشنٹ کی کٹھ پتلی ہے اور کون ملک میں ایک آئینی انتظام کے لئے اقدام کرنا چاہتا ہے۔
اتوار، 22 مئی 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post ن لیگ کی حکومت مسائل کے بوجھ سے کیسے نکل سکتی ہے؟ appeared first on شفقنا اردو نیوز.