اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرش نے کہا ہے کہ یوکرین پر روسی حملوں کی وجہ سے عالمی سطح پر فاقہ کشی کی سخت لہر کا خطرہ ہے۔
گوٹیرش کے مطابق، جنگ کے اثرات خوراک کے تحفظ، توانائی اور مالیات پر منظم طریقے، شدت اور تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
یوکرین گندم اور مکئی جیسی اہم خوراک کی اشیا کا بڑا عالمی برآمد کنندہ ہے لیکن روس کی جانب سے اس کی بندرگاہیں بلاک کیے جانے کے نتیجے میں برآمدات بڑی حد تک رک گئی ہیں۔
سکریٹری جنرل کا مزید کہنا ہے کہ اقوام متحدہ ایک پیکج معاہدے کا خواہاں ہے تاکہ بحیرہ اسود کے ذریعے یوکرین میں تیار کی گئی خوراک کو محفوظ طریقے سے برآمد کرنے کی اجازت دی جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ روسی خوراک اور کھاد کے لیے عالمی منڈیوں تک بلا روک ٹوک رسائی کی کوشش کی جارہی ہے۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ معاہدہ ترقی پذیر ممالک بشمول سب صحارا افریقہ کے کروڑوں لوگوں کے لیے انتہائی اہم ہوگا، جو یوکرین سے برآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔