جرمن فوج کے ان دو سابق سپاہیوں کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع ہو گئی ہے، جو ایک دہشت گرد گروپ بنا کر یمنی خانہ جنگی میں حصہ لینا چاہتے تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمن استغاثہ نے گزشتہ روز جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا کہ یہ دونوں ملزمان ایک ایسی شخصیت سے متاثر تھے، جس کو نفسیاتی مسائل کا سامنا تھا۔ ان دونوں ملزمان میں سے ایک آخِم الوائر کی عمر 52 برس اور دوسرے آرینڈ اڈولف گریس کی عمر 60 برس ہے۔
دونوں پر الزام ہے کہ وہ اپنی قیادت میں کرائے کے قاتلوں پر مشتمل ایک ایسا مبینہ دہشت گرد گروہ قائم کرنا چاہتے تھے، جس کے ارکان کو یمن جا کر وہاں کئی برسوں سے جاری خانہ جنگی میں شامل ہونا تھا۔ یہ ملزمان اس دہشت گرد گروہ کے قیام کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ یمن جانے سے پہلے ہی گرفتار کر لیے گئے تھے۔ استغاثہ کے مطابق ملزمان کو خود کو صوفی ظاہر کرنے والے اور مستقبل کا حال بتانے والے ایک ایسے مبینہ شخص سے احکامات ملتے تھے، جو در اصل ذہنی مریض تھا۔
اس شخص کا دعوی تھا کہ اسے مبینہ طور پر غیب سے جو احکامات ملتے تھے، وہ ایسے حکم ہوتے تھے جن پر عمل کرنا ان دونوں سابق جرمن فوجیوں کے لیے لازمی ہوتا تھا۔ استغاثہ کے مطابق ملزمان نے دوران تفتیش یہ دعوی کیا کہ وہ عرب دنیا کے غریب ترین ملک یمن کی خانہ جنگی میں اپنے گروہ کے ساتھ شامل ہو کر وہاں امن قائم کرنا چاہتے تھے۔
قانونی طور پر جو بات ان کے موقف کے خلاف جاتی ہے، وہ یہ ہے کہ دونوں کو ہی علم تھا کہ وہ کرائے کا قاتلوں کا جو مسلح گروہ بنانا چاہتے تھے، وہ غیر قانونی تھا اور ان کی مستقبل کے لیے منصوبہ کردہ حکمت عملی کے نتیجے میں لازمی طور پر بہت سے عام یمنی شہری بھی مارے جاتے۔