یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ 2021 میں مقبوضہ مشرقی القدس اور دریائے اردن کے مغربی کنارے میں غیر قانونی یہودی بستیوں میں نئے ہاؤسنگ یونٹس کی تعداد بڑھ کر 22 ہزار ہو گئی ہے۔
یورپی یونین کے فلسطین کی نمائندہ آفس نے مغربی کنارے اور مشرقی القدس میں اسرائیل کی غیر قانونی یہودی بستیوں کے بارے میں اپنی 2021 کی رپورٹ شائع کی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مغربی کنارے اور مشرقی القدس میں غیر قانونی یہودی آباد کاری کے منصوبوں میں گزشتہ سالوں کے مقابلے میں تیزی آئی اور 22 ہزار 30 نئے ہاؤسنگ یونٹس قائم کیے گئے ہیں۔
اطلاع کے مطابق مشرقی القدس میں 2020 میں جہاں 6 ہزار 288 نئی غیر قانونی رہائش گاہیں رجسٹر کی گئیں وہیں 2021 میں 14 ہزار 894 نئی رہائش گاہیں رجسٹر کی گئی ہیں۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ 2021 میں نئے مکانات کی تعمیر میں پچھلے سال کے مقابلے میں دوگنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، یہ کہا گیا ہے کہ جون 2021 میں اقتدار حاصل کرنے والی حکومت نے اپنے وعدے کے باوجود یہودی بستیوں کی تعمیر جاری رکھی۔