ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اسلامی نظریاتی کونسل ملک میں سیاسی افہام تفہیم کے لئے کردار ادا کرنے پر تیار: شفقنا خصوصی

چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے حکومت و اپوزیشن کو میثاق سیاست کا مشورہ دیدیا
اسلامی نظریاتی کونسل مذہبی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیساتھ سیاسی مفاہمت کرانے کیلئے بھی تیار ہے، قبلہ ایاز
اسلام آباد(شفقنانیوز) وفاقی حکومت نے کم عمری کی شادیوں، جبری تبدیلی مذہب جیسے سماجی مسائل کے حل کے لیے اعلی سطحی کمیٹی قائم کردی ہے جبکہ اب نکاح نامہ جو پاکستان میں رائج ہے اس میں بھی کچھ تبدیلیاں کی جائیں گی اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ جوکہ وزارت مذہبی امور کی اس کمیٹی کے بھی سربراہ ہیں جسے سماجی و معاشرتی مسائل کے حل کے لئے بنائی گئی ہے ان سے شفقنا نیوز سے خصوصی نشست کی ہے-
ڈاکٹر قبلہ ایاز کہتے ہیں کہ ایاز کہتے ہیں کم عمری کی شادی کے تدارک اور حوصلہ شکنی کیلئے کام شروع کردیا گیا، کم عمری شادی کا مسئلہ آج سے نہیں 1929ء سے یہ معاملہ چل رہا ہے، یہ مسئلہ قانون سازی کی بجائے عوامی شعور سے حل ہوگا، البتہ ابھی تک ملک میں جو اس حوالےسے قانون لاگو ہے وہ 1929ء سے چلا آرہا ہے اس قانون میں ترمیم کرتے ہوئے سندھ میں شادی کی عمر 18 اور پنجاب و وفاق میں 16 سال ہے-
انکا کہنا تھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس یہ کیس موجود ہے کیونکہ عدالتوں کے فیصلے ہیں، لاہور ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ اس حوالے سے فیصلے دے چکی ہے جبکہ اس سلسلے میں وزارت مذہبی امور نے بھی ایک کمیٹی قائم کی، وزارت مذہبی امور کیساتھ مل کر اس مسئلے کے حل کیلئے جید علما کے ساتھ بیٹھ کر کام شروع کردیا- ہم اس کمیٹی کا ایک عمومی اجلاس کرچکے ہیں اور ایک تکنیکی یعنی فنی سب کمیٹی بھی قائم کردی ہے جس میں تمام مکاتب فکر کے جید علما، مشائخ اور ماہرین کی آراء ، نکتہ نظر اور تجاویز لی جائیں گی-
ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی جو سفارش ہے اس حوالے سے وہ یہ ہے کہ کم سنی کی شادی مفاسد یعنی مسائل سے خالی نہیں ہے جس نے سائیکالوجی، معاشرتی اور طبی مسائل ہیں اور یہ حوصلہ افزاء نہیں ہیں لیکن اس کے تدارک کے لیے صرف قانون سازی نہیں بلکہ شعور کی بیداری کے ذریعے اس قسم کی شادیوں کو روکا جائے- جبری شادیوں کا مسئلہ زیادہ تر سندھ میں ہے جہاں کئی بچیوں کی تبدیلی مذہب کے ساتھ شادیوں کے مسائل سامنے آئے، یہ ایک تفصیلی مسئلہ ہے جس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ پہلے ہی کونسل لے رہی ہے اب مذکورہ کمیٹی بھی کام کریگی، ہم دیکھ رہے کہ کہ یہ واقعی جبری شادی ہے یا جبری تبدیلی مذہب ہے یا اس کے محرکات کچھ اور ہیں امید ہے اس حوالے سے جلد کسی متفقہ نکتے پر پہنچ کر رپورٹ مرتب کرلیں گے-
شفقنا نیوز کے ایک اور سوال پر چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا تھا کہ کم سنی میں اسلام قبول کرنے کی کوئی ممانعت نہیں ہے، اس حوالے سے معاشرے میں کئی حوالے اور مثالیں موجود ہیں، اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ جب کسی خاندان کے والدین مسلمان ہوجائیں تو بچے بھی مسلمان ہوجاتے ہیں، ایسی متعدد صورتیں ہیں اس کا فیصلہ آپ کسی سویپنگ اصول کے تحت نہیں کرسکتے ظاہر ہے اس کی تفصیلی جزیے بنانے ہونگے یعنی ڈی کنسٹرکشن کرنی ہوگی اور اس کے بعد پھر ایک ایک سوال کا جواب دینا ہوگا کیونکہ یہ انتہائی طویل اور حساس مسئلہ ہے اس کے تمام پہلوؤں اور سوالات کو سامنے رکھنا ہوگا۔
شفقنا نیوز نے جب بعض جگہوں پر اغوا، شادیوں اور اس پر دیگر تحفظات بارے سوال کیا تو چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا تھا کہ جبری تبدیلی مذہب کی کوئی گنجائش نہیں ہے، بنیادی طور پر اغوا اور پھر جبری تبدیلی مذہب یہ خالصتاً معاشرتی اور عدالتی مسئلہ ہے، معاشرتی مسئلہ اس لحاظ سے کہ پس افتادہ اور پسماندہ علاقوں میں ایسے مسائل جنم لیتے ہیں وہاں معاشی و معاشرتی بہتری سے ان مسائل کو ختم یا کم ترین کیا جاسکتا ہے اور پھر یہ عدالتی مسئلہ ہے اغوا کرنا ایک غیر قانونی عمل ہے اس پر کیس چلنا چاہیئے اسے سزا ہونی چاہیئے-
انہوں نے پاکستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بین المذاھب ہم آہنگی بارے سوال پر کہنا تھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بین المسالک ہم آہنگی کیلئے کلیدی کردار ادا کیا ہے – پیغام پاکستان کے بعد کافی تبدیلی آئی ہے گزشتہ چار سال میں حالات کافی پرامن رہے ہیں اور ایک اصول طے کردیا گیا ہے اور سب نے اتفاق کیا ہے کہ اگر توہین، تکفیر یا کسی بھی قسم کی اہانت جس بھی جانب سے ہوگی اسی مکتب و مسلک کی نمائندہ شخصیات توہین کرنے والے کے خلاف کیس دائر کریں گی چاہے اس کا تعلق اہل سنت سے ہو یا اہل تشیع سے یا کسی دوسرے مکتب سے ، اسلامی نظریاتی کونسل کچھ سالوں سے محرم الحرام سے قبل تمام مکاتب فکر کے جید و نمائندہ شخصیات اور جماعتوں کے مابین مذاکرے کا اہتمام کرتی آرہی ہے جس میں تمام سٹیک ہولڈرز کی معاونت بھی حاصل ہوتی ہے اور اس کے معاشرے پر اچھے اثرات بھی مرتب ہورہے ہیں-
جہاں تک بین الاقوامی بین المذاھب ہم آہنگی کی بات ہے تو بین المذاھب ہم آہنگی میں بھی پاکستان کا بین الاقوامی دنیا میں اچھا تاثر ہے، ہمارا تقابل اگر بھارت سے کیا جائے تو ہمارا گراف کافی بلند ہے، اکا دکا واقعات رونما ہوجاتے ہیں مگر ان کا تعلق ملک کے اندرونی حالات سے نہیں ہوتا بلکہ کوئی نہ کوئی بیرون ایجنڈا یا عوامل کے باعث ہوتا ہے، انہوں نے کوہاٹی بازار چرچ حملے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ یہ یقیناً کسی پاکستانی نے نہیں کیا تھا بلکہ جب یہ واقعہ ہوا تو مقامی افراد نے نہ صرف اس سانحہ میں فوت ہونے والوں کی تدفین کا اہتمام کیا بلکہ ان کے پسماندگان کے لئے اسی علاقے کی مسلم کمیونٹی نے 40 روز تک ان کی خوراک اور دیگر ضروریات کا انتظام کیا، جو ہمارا یعنی پاکستان کا عمل ہے وہ تو ایسا ہے، اسی طریقے سے باقی علاقوں بلوچستان، پنجاب میں ماحول اچھا ہے سندھ میں کچھ مسائل پیدا ہوجاتے ہیں جو معاشرتی ہیں مگر مذہبی نہیں ہیں اسکو اسلامی نظریاتی کونسل بھی دیکھ رہی ہے، پارلیمنٹ کی بھی باقاعدہ کمیٹی ہے اور اب تک کی سفارشات پر بھی عمل ہورہا ہے امید ہے سندھ یہ معاشرتی مسئلہ بھی جلد ہوگا –
شفقنا نیوز نے ان سے سوال کیا کہ جب آپ فرقہ وارانہ ہم آہنگی، بین المذاھب ہم آہنگی کے لئے کردار ادا کرسکتے ہیں جوکہ نسبتاً مشکل کام ہے بنسبت سیاسی ہم آہنگی کے؟ کیا حکومت و اپوزیشن کے درمیان بڑھنے والی خلیج جو اب سیاسی اختلاف سے بڑھ کر نفرت میں تبدیل ہوتی جارہی ہے اس پر کیا کوئی کرداد ادا کرسکتی ہے ؟
تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے لیے میثاق معیشت کی ضرورت ہے ریاستی مفادات میں کچھ امور اور میدان ایسے ہیں جہاں اشتراک عمل ضروری ہے، ریاستی مفادات کے تناظر میں اسلامی نظریاتی کونسل حکومت و اپوزیشن کو ایک جگہ بٹھانے کے لئے کردار ادا کرسکتی ہے البتہ فریقین کو بھی ملکی، ریاستی امور کی سنجیدگی کو سمجھنا ہوگا-
واضح ہے وفاقی حکومت نے کچھ روز قبل کم سنی کی شادیوں ، جبری تبدیلی مذہب سمیت دیگر سماجی، معاشرتی مسائل کے حوالےسے ڈاکٹر قبلہ ایاز کی سربراہی میں ایک اعلی سطحی کمیٹی قائم کردی ہے جو ان امور کا جائزہ لے کر سفارشات مرتب کرے گی اور وفاقی وزارت مذہبی امور کے ذریعے وفاقی کابینہ کو بھجوائے گی اس اہم ترین کمیٹی میں اہل تشیع سے جید عالم دین علامہ عارف حسین واحدی، اہل سنت سے مولانا مفتی ضمیر احمد ساجد، اسلامی نظریاتی کونسل ریسرچ ونگ کے اعلی عہدیداروں سمیت دیگر ماہرین کو شامل کیا گیا ہے اور اس کا تعارفی اجلاس میں منعقد کیا جاچکا ہے-
انتظار حیدری
شفقنا اردو

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں