ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ہم نہ تو صرف مشرق کا حصہ ہیں یا مغرب کا، ہم دنیا کا حصہ ہیں، صدر ایردوان

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ ہم دنیا کا حصہ ہیں، نہ مشرق  اور نہ مغرب کا۔

صدر ایردوان نے نیویارک میں امریکی PBS چینل کے مہمان کی حیثیت سے خارجہ پالیسی اور عالمی ایجنڈے کے بارے میں  اپنے جائزے پیش کیے۔

انہوں نے یہ سوال کہ "آپ کا شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت کا ارادہ  رکھتے ہیں ،  اس تنظیم میں روس، چین اور ایران ہیں۔ یہ ایک ایسی تنظیم ہے جس کی اقدار اور اہداف نیٹو سے بہت مختلف ہیں۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا ملک مشرق کا حصہ بنے  یا  پھر مغرب کا ؟” کے جواب میں  کہا کہ: ہم دنیا کا حصہ ہیں؛ نہ  صرف مشرق  اور  مغرب کا… ہمارے لیے ہمارے ملک کا ایک بڑا حصہ جغرافیائی طور پر مشرق سے تعلق رکھتا ہے۔ مغربی حصہ الگ ہے۔ لیکن یورپی یونین 52 برسوں سے ہمارے ساتھ ٹال مٹول  سے کام   لے رہی ہے۔ تاہم، ہم نیٹو ملک ہیں۔ ہم نیٹو ملک ہونے کے باوجود بھی نیٹو ممالک ہمیں یورپی یونین کے عمل میں مصروف رکھتے ہیں۔ ہمیں  مختلف  عوامل میں  دھکیل دیا جاتا  ہے۔ یورپی یونین ہمیں 52 سال تک تھامے  رکھے گی، اس کے قریب  بھی پھٹکنے نہیں دے گی اور اس کے بعد ہماری ملاقاتوں میں ٹانگ. جب کہ ہم یہ مذاکرات کر رہے ہیں، ہم اس وقت یورپی یونین کے سامنے جوابدہ نہیں ہوں گے۔ ہم دنیا کے تمام ممالک سے  اچھے تعلقات رکھتے ہیں۔  اور  ہم ایک خود مختار اور آزاد مملکت ہیں۔

 

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں