یہ تو تھا پارٹیوں اور الیکشن کا منظر نامہ۔ اس کے ساتھ شخصیات کا میچ اس کے علاوہ ہے۔ وقت کا دھارا بدل رہا ہے۔ قانون کی نظر ن لیگ پر مہربان ہے۔ شریف خاندان کے کیس بتدریج ختم ہو رہے ہیں اور نااہلی ختم ہونے کی طرف رجحان واضح ہے۔ اسی ترتیب سے عمران خان کے سکینڈل، کیس اور نااہلی کا بندوبست جاری ہے۔ اگر الیکشن سے پہلے عمران خان کو سیاسی میدان سے باہر کیا گیا تو یہ پی ٹی آئی کے لیے فیصلہ کن موڑ ہو گا۔
وہ کیا راستہ اپنائیں گے یہ تو عمران خان کا فیصلہ ہو گا مگر ابھی تک کے تجربے کے مطابق اس فیصلے سے عدم استحکام کا ایک نیا دور شروع ہو جائے گا۔
قصہ مختصر یہ کہ سیاست کے ہر ممکن منظر نامے کے مطابق استحکام ایک خواب ہی ہے۔ 2022 کا سال اگر ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ لفظ ہو گا بحران۔ 2023 میں بھی بحران کا حل ہونا تو دور کی بعد، اس میں کمی کی بھی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی۔
نہ ہی سیاستدانوں میں کوئی ایسی سوچ نظر آ رہی جو بحران کو آسان کرنے کا سبب بنے۔ اعتماد اور اتفاق کا ایسا فقدان ہے کہ کوئی بھی کسی پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔ انتقام اور بدلہ بنیادی محرکات ہیں۔ ایسے ماحول میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ سیاسی استحکام ایک خواب ہی رہے گا؟
بشکریہ: اردو نیوز
ماریہ میمن