ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ترکیہ میں آخری متاثرہ شخص کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے،وزیراعظم

انقرہ:وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ترکیہ میں تباہ کن زلزلے سے جانی و مالی نقصان پر بے حد افسوس ہے، نقصان بہت زیادہ ہے، آخری متاثرہ شخص کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، صدر طیب اردگان کی اہلیہ امینہ نے سیلاب متاثرین کیلئے اپنے کنگن عطیہ کئے،پاکستان پر جب بھی مشکل وقت آیا ترکیہ نے ہماری مدد کی، مجھے یقین ہے ترک حکومت اور عوام جلد مشکل سے نکل آئیں گے، ترکیہ کی مدد کیلئے او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلانا چاہیے۔

 ترک میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان پہلا ملک ہے جو ترکیہ میں 21 ویں صدی کے بدترین زلزلے کے بعد مدد کو پہنچا، زلزلے کے بعد صدر طیب اردوان کو فون کر کے تعزیت کی اور مدد کی پیشکش کی، اپنی حکومت، پاکستانی عوام کی جانب سے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتا ہوں۔

 انہوں نے کہا کہ جتنی بھی امداد کی جائے کم ہے، ہم اب تک 500 ٹن سے زائد امدادی اشیا پہنچا چکے ہیں، وزرا، ارکان پارلیمنٹ نے ایک ایک ماہ کی تنخواہ ترک بھائیوں کے لیے عطیہ کی، صدر طیب اردگان کی اہلیہ امینہ نے سیلاب متاثرین کیلئے اپنے کنگن عطیہ کئے۔

 وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ترکیہ کی مدد کیلئے او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلانا چاہیے، پاکستانی قوم مشکل گھڑی میں ترکیہ کے عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے، پاکستان پر جب بھی مشکل وقت آیا ترکیہ نے ہماری مدد کی، مجھے یقین ہے ترک حکومت اور عوام جلد مشکل سے نکل آئیں گے۔

 شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان میں سردیوں کے خیمے تیار کرنے والی کمپنیوں کا ہنگامی اجلاس بلایا ہے، ہماری توجہ سردیوں کے خیمے زیادہ سے زیادہ ترکیہ بھیجنے پر ہے، اعلی معیار کے سردیوں کے خیمے جلد تیار کر کے بھیجیں گے،2010 کے سیلاب کے بعد صدر اردوان نے دورہ کیا، لاکھوں ڈالر امداد دی، بین الاقوامی برادری کو ترکیہ میں بحالی اور تعمیر نو کے لیے کام کرنا چاہیے۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ انسانیت کی بھلائی سے بڑا کوئی کام نہیں ہے، کاش ہم کسی خوشی کے موقع پر آئے ہوتے، ترکیہ میں آخری متاثرہ شخص کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں