کراچی: عباسی شہید اسپتال کے بچوں کے وارڈ پر شرپسندوں نے حملہ کرکے ڈیوٹی پر مامور خواتین ڈاکٹرز اور عملے کو زدو کوب کرکے شدید ہراساں کیا، ڈنڈوں سے وارڈ کی املاک کو شدید نقصان پہنچایا۔
تفصیلات کے مطابق 19 مارچ کی رات 3 بجے 40-50افراد کا ایک مشتعل گروہ عباسی اسپتال کی ٹراما بلڈنگ میں تیسری منزل پر واقع بچوں کے وارڈ میں زبردستی داخل ہوا اور وارڈ کو تہس نہس کردیا۔
وارڈ میں اس وقت 100سے زائد بچے زیر علاج اور ان کی والدہ و سرپرست بھی موجود تھے۔ پی آئی سی یو میں زیر علاج ایک سالہ بچی آیت فاطمہ کی موت پر یہ افراد ایسا غیر قانونی، غیر اخلاقی، بلا جواز ردعمل دے رہے تھے جس نے دیگر بچوں کی جان کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔
بچوں کے وارڈ کے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ڈیوٹی پر موجود دیگر ڈاکٹرز و عملے کے ساتھ ہونے والا کوئی نقصان وارڈ میں زیر علاج معصوم بچوں کے علاج میں رکاوٹ بن کر خطرناک ہو سکتا ہے۔
عباسی شہید اسپتال کا بچہ وارڈ سال بھر دن کے 24 گھنٹہ خدمات دینے والا اہسپتال ہے۔ایک بستر پر دو دو بچوں کو علاج کی سہولت دی جاتی یے۔ ڈاکٹرز کے پاس علاج کی تدابیر ہوتی ہیں زندگی موت کا اختیار نہیں ہوتا، علاج و سہولت میں ہر ممکن سہولت پہنچائی جاتی ہے۔
ایسے واقعات سے ڈاکٹرز کے خلوص اور محنت پر ضرب پڑتی ہے، والدین کو سوچنا چاہیے کہ سرکاری ہوں یا نجی تمام ڈاکٹر یا اسٹاف صرف مریض کی صحتیابی چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسپتال کی سیکیورٹی پر سوال اٹھتا ہے کہ اگر ہم اپنے عملے اور املاک کو تحفظ نہیں دیں گے تو کیسے کام آگے بڑھے گا. عباسی اسپتال سال میں ایک لاکھ سے زائدبچوں کے علاج کا بوجھ بانٹتا ہے، اگر والدین جذبات میں اتنا آگے نکل جائیں گے تو ان ایک لاکھ معصوم بچوں کے علاج کی ذمہ داری کس کے کندھے پر ہوگی۔
ذرائع کے مطابق اس وقت عباسی شہید اسپتال میں انتظامی بحران ہے اور کوئی ڈائریکٹر و سینئر عملہ تعینات نہیں ہے۔



