روس کے نائب وزیر خارجہ سرگے ریابکوف نے کہا ہے کہ ہم امریکہ کے ساتھ اختلافات کے شدید ترین مرحلے میں ہیں۔
سپٹنک ریڈیو کے لئے انٹرویو میں ریابکوف نے روس اور امریکہ کے باہمی تعلقات میں شدید تناو کی طرف اشارہ کیا اور کہا ہے کہ ” حالِ حاضر میں ہم امریکہ کے ساتھ اختلافات کے شدید ترین مرحلے میں ہیں اور امریکہ انتظامیہ کے مختلف حوالوں سے روس کے ساتھ ہائبرڈ جنگ میں براہ راست شامل ہونے کا مشاہدہ کر رہے ہیں”۔
انہوں نے کہا ہے کہ اس جنگ کی بعض شکلیں ایسی ہیں کہ جن کی اس سے قبل کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ جنگی شکلیں سرد جنگ کے دور میں بھی نہیں دیکھی گئیں۔
ریابکوف نے کہا ہے کہ اس وقت تک جوہری جھڑپ کے بارے میں بہت سی باتیں کی جا چکی ہیں لیکن روس ہمیشہ سے یہ کہتا چلا آ رہا ہے کہ اگر جوہری جنگ چھڑی تو اس کا فاتح کوئی نہیں ہو گا۔
انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ "بغیر سوچے سمجھے، اکساوے کے شکل میں اور نہایت لا پرواہی کے ساتھ ” متعدد پہلووں سے صورتحال کو بھڑکانے کی کوشش کر رہا ہے۔ روس کے دشمن یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ روس کو اسٹریٹجک شکست دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی خوش فہمی ہے۔ یہ اور کچھ نہیں کر رہے حقیقی معنوں میں آگ سے کھیل رہے ہیں”۔
نائب وزیر خارجہ سرگے ریابکوف نے کہا ہے کہ "اپنی آزادی اور زمینی سالمیت پر حملے کی صورت میں روس ہر تدبیر اور ہر راستہ اختیار کرے گا۔ اگر امریکہ نے روس کے اس عزم کو سنجیدگی سے نہ لیا تو یہ ایک مہلک غلطی ہو گی”۔