ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

سندھ اسمبلی میں آئین کی گولڈن جوبلی پر ایک قرار داد متفقہ طور پر منظور

 کراچی: سندھ اسمبلی نے آئین کی گولڈن جوبلی پر ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق صوبائی وزیر وزیر صحت ڈاکٹرعذرا پیچوہو نے قرارد داد پیش کرتے ہوئے کہاکہ ایوان آئین کی گولڈن جوبلی پر عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہے،قرارداد کی محرک نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئین میں 18 ویں ترمیم بھی پیپلز پارٹی نے کی،جس سے صوبوں کو خودمختاری ملی ۔

انہوں نے کہا کہ مجھے آئین پر بات کرنے کا موقع ملا۔میرے لیے اس سے بڑی خوش قسمتی کیا ہوگی، میرے والد کے بھی اس پر دستخط ہیں۔آئین پر جو بھی ڈکٹیٹر نے ضربیں لگائی ہیں ہم نے منظم ہو کر اس کا دفاع کیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ آئین ہمارے لیے اولین درجہ رکھتا ہے۔جو سیاسی عدم استحکام اس وقت ملک میں موجود ہے اس میں آئین کومشعل راہ بنا کر آگے بڑھ سکتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے زریعے صوبوں کو حق دیا گیا۔اس سے صوبے اتنے مضبوط ہوگئے ہیں۔زیادہ تر لوگ صوبے میں رہتے ہیں۔وفاق میں تو بیوروکریٹس رہتے ہیں ۔فیڈریشن کیلیے ضروری تھا کہ صوبوں کو حقوق ملیں۔

اسپیکر آغا سراج درانی نے کہا کہ ہمیں دنیا کو بتانا ہے کہ ہمیں آئین کے ساتھ ایک ہیں۔بہت سے ڈکٹیٹر آئے کہ اس آئین کو ختم کردیں لیکن وہ اس کو ختم نہیں کرسکے ۔جی ڈی اے کے شہریار مہرنے قرار داد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس قرارداد کو سپورٹ کرتے ہیں۔یہ ہماری وہ کتاب ہے جس سے ملک کا ہر دن چلتا ہے ۔یہ قرارداد لانے کا مقصد صرف تعریف کرنا ہے تو وہ ممبر موجود ہیں۔اصل مقصد آئین کا عملدرآمد کا ہے۔جب مارشل لا آتا ہے تو ہمیں اس وقت آئین یاد آتا ہے۔ہم اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے ہیں۔ہم روزانہ کتنا آئین توڑتے ہیں۔قومی اور سندھ اسمبلی میں روزانہ آئین توڑتے ہیں۔اس کے بعد جو قرار داد آنے والی ہے اس کے ذریعے آئین توڑا گیا ہے۔قومی اسمبلی میں جو کچھ ہوا کیا وہ آئین کی خلاف ورزی نہیں ہے۔اس آئین عملدرآمد زیادہ ضروری ہے یا صرف باتیں کرنی ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں