ترکیہ نے اطلاع دی ہے کہ 1993 میں جرمنی کے شہر سولنگن میں ہونے والے حملے کے بعد سے یورپ میں نسل پرستی میں اضافہ ہوا ہے۔
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ سولنگن شہر میں 29 مئی 1993 کو نسل پرست گروہ کی جانب سے گھروں کونذر آتش کرنے کے نتیجے میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے 5 شہریوں کی حملے کی 30 ویں برسی پر یاد منائی گئی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ نائب وزیر خارجہ یاسین اکرم سیریم حملے کی 30ویں برسی کے موقع پر سولنگن میں منعقد ہونے والی یادگاری رسومات میں شرکت کریں گے۔
بیان کے مطابق "اس موقع پر، ہم اپنے ان تمام شہریوں کو یاد کرتے ہیں جنہوں نے نسل پرستانہ اور غیر ملکی دشمنی کے حملوں میں اپنی جانیں گنوائیں، سولنگن حملے میں اپنے خاندان کے افراد کو کھونے کے باوجود ان کے اہل خانہ نے تحمل سے کام لینے کے مطالبات کے ساتھ ایک مثالی موقف کا مظاہرہ کیا۔”
بیان میں کہا گیا:
"ہم ایک بار پھر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہمیں ہر قسم کے امتیازی سلوک کو روکنے اور اس طرح کے سانحات کے دہرائے جانے کا سد باب کرنے کے لیےغیر ملکی دشمنی ، نسل پرستی اور اسلامو فوبیا کے خلاف مل کر لڑنا چاہیے۔ ہم پوری انسانیت کی سطح پر اور ہر پلیٹ فارم پر اس حوالے سے اپنےعزم کو جاری رکھیں گے۔