ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

امریکہ میں قرضے کی حد کے بارے میں ایوان سے منظور شدہ بل پر سینٹ میں بحث

امریکہ میں قرضے کی حد کے اور اس حد کو اٹھانے کی منظوری نہ ملنے کی صورت میں امریکی معیشت اور عالمی اقتصادی صورت حال پر اسکے جو ممکنہ اثرات پڑتے انکے بارے میں امریکہ اور بیرونی دنیا میں جو تشویش اور خدشات پائے جاتے تھے ، بدھ کے روز امریکی ایوان نمائیندگان میں اس بارے میں صدر بائیڈن اور ایوان نمائیندگان کے اسپیکر کیون میکارتھی کے درمیان ہونے والے سمجھوتے کے نتیجے میں تیار کئے گئے بل کی منظوری کی بعد ان خدشات میں بڑی حد تک کمی ہوئی ہے۔ اسٹاک مارکٹوں میں ایک روز قبل تک مندی کا جو رجحان تھا، جمعرات کے روز ان میں نسبتا بہتری دیکھی گئی۔


امریکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے اور اس لحاظ سے، اگرامریکہ میں کوئی معاشی بحران پیدا ہوتاہے تو وہ پوری دنیا کو متاثر کر سکتا ہے۔ اسی لئے امریکہ کے ڈیفالٹ ہونے کے خطرات سے صرف امریکہ کے اندر ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں پریشانی تھی۔

ماہرین کا خیال تھا کہ اگر یہ معاملہ طے نہ ہوسکا اور وفاقی حکومت کے قرضوں کی حد میں کانگریس سے منظوری نہ ملی تو جون کےبالکل اوائل میں امریکہ اپنے بلوں کی ادائیگی کے قابل نہیں رہے گا۔ اور ڈیفالٹ کر جائے گا اور امریکی وزیر خزانہ یلین نے اس حوالے سے بار بار خبردار کیا تھا۔

اس بات کا خطرہ بھی تھا کہ ڈیفالٹ کی صورت میں امریکہ کی کریڈٹ ریٹنگ گر جائے گی جو امریکہ کی تاریخ میں نہ صرف پہلا ڈیفالٹ ہوتا بلکہ کریڈت ریٹنگ بھی پہلی بار گرتی۔ اور ماہرین کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں امریکہ کے اندر ہزاروں ملازمتیں ختم ہو جاتیں۔ امدادی پروگرام بری طرح سے متاثر ہوتے۔ سوشل سیکیورٹی کے چیک رک جاتے۔ لیکن اب جب کہ ایوان نمائیندگان نے اس بل کو منظور کرلیا ہے۔ اور اب یہ بل سینٹ میں ہے جہاں اس پر بحث ہورہی ہے اور کسی بھی وقت اس پر ووٹنگ ہو سکتی ہے۔ اور امید کی جارہی ہے کہ کانگریس سے منظوری کے بعد صدر کے اس بل پر دسخطوں کے ساتھ یہ بحران ٹل جائے گا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں