نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینز اسٹالٹن برگ نے کہا ہے کہ سویڈن کی نیٹو رکنیت 11 تا 12 جولائی کے نیٹو سربراہی اجلاس تک ممکن ہے لیکن ہم اس کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتے۔
اسٹالٹن برگ نے بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں نیٹو ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ نیٹو وزراء دفاع اجلاس سے قبل اخباری نمائندوں کے سوالات کے جواب دیئے۔
ولینیئس سربراہی اجلاس تک سویڈن کی رکنیت کے امکان سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ کل ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں ترکیہ، سویڈن اور فن لینڈ کے درمیان دائمی مشترکہ میکانزم اجلاس منعقد ہوا جو مثبت ماحول میں طے پایا ہے۔
اسٹالٹن برگ نے کہا ہے کہ گذشتہ سال کے میڈریڈ سربراہی اجلاس میں طے پانے والے سہ فریقی میمورینڈم کے دائرہ کار میں سویڈن نے اپنے وعدے پورے کئے ہیں۔ ترکیہ کے سکیورٹی خدشات جائز ہیں ۔ کسی بھی نیٹو اتحادی نے دہشت گردی سے اتنا نقصان نہیں اٹھایا جتنا ترکیہ نے اٹھایا ہے”۔
سویڈن کی رکنیت کے بارے میں انہوں نے کہا ہے کہ "سویڈن کی نیٹو رکنیت ولینیئس سربراہی اجلاس تک ممکن ہے لیکن میں اس کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتا۔ ہم سویڈن کی جلد از جلد رکنیت کے لئے کام کر رہے ہیں۔ اس وسیلے سے صدر رجب طیب ایردوان کے ساتھ ملاقات اور دائمی میکانزم اجلاس کے انعقاد پر بھی مجھے مسرت ہے”۔
یو ایس اے ٹو ڈے کے لئے انٹرویو میں ژینز اسٹالٹن برگ نے کہا ہے کہ ولینیئس سربراہی اجلاس میں یوکرین کو نیٹو رکنیت کی دعوت کا موضوع ایجنڈے پر نہیں آئے گا۔
انہوں نے کہا ہے کہ یوکرین کے لئے اوّلین ترجیح جنگ میں فتح حاصل کرنا ہے۔ مجھے امید ہے کہ آئندہ ماہ متوقع نیٹو سربراہی اجلاس میں یوکرین کے ساتھ ٹھوس تعاون کے بارے میں نئے فیصلے کئے جائیں گے۔