اسلام آباد: جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل امیر العظیم نے میئر کراچی کے ہونے والے انتخاب میں ہونے والی دھاندلی کا نوٹس نہ لینے اور دوبارہ انتخاب نہ کروانے کی صورت میں الیکشن کمیشن آف پاکستان پر قبضہ کی دھمکی دے دی۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے قریب نادرا چوک پر میئر کراچی کے انتخاب میں بدترین دھاندلی کے خلاف اہلیان کراچی سے اظہار یکجہتی کے لیے ایک بڑے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئےامیر العظیم نے کہا کہ جس دن سراج الحق اس بارے میں کال دیں گے کارکنان تیار بیٹھے ہیں الیکشن کمیشن پر دھاوا بول دیں گے، کراچی بلاول کے باپ کا سینما نہیں ہے کہ جہاں مرتضی وہاب کی تصاویر لگا کر فلم چلانے کے لیے بلیک میں ٹکٹ فروخت ہوں۔
امیر العظیم نے کہا کہ احتجاج کے حوالے سے اسلام آباد کو بھی کراچی بنا دیا گیا ہے بلکہ پورا پاکستان کراچی بن گیا ہے کچھ ہی دور الیکشن کمیشن آف پاکستان موجود ہے خبردار کرتے ہیں یہ آخری مظاہرہ نہیں ہے احتجاج کی شروعات ہے ہمارے کارکنان انصاف کے حصول کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان پر قبضہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہاکہ جب بھی سراج الحق کال دیں گے یہاں پہنچ جائیں گے، کراچی بلاول کے باپ کا سینما نہیں ہے جہاں مرتضی وہاب کی تصویر لگا کر فلم دکھانے کے لیے بلیک میں ٹکٹ فروخت کئے جائیں ۔ یہ میئر کا انتخاب ہے کلفٹن کا کوئی بنگلہ نہیں ہے کہ اس پر قبضہ کر لیا جائے۔
رہنما جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ اندرون سندھ کی زمینیں نہیں ہیں کہ یہ قبضہ کر لیں، یہ کراچی کے میئر کا انتخاب ہے جس پر پورے پاکستان کی عوام کی نظریں ہیں کراچی ساری قوم کی آنکھوں کا تارا ہے اور حافظ نعیم الرحمان کی جدوجہد میں شامل ہیں مددگار ہیں ، آج بھی کراچی جماعت اسلامی کا ہے کل بھی تھا اور آئندہ بھی رہے گا ۔
انہوں نے مزید کہاکہ سید منور حسن کی استقامت ، پروفیسر غفور احمد کی ثابت قدمی ، عبد الستار افغانی اور نعمت اللہ خان کی خدمات حافظ نعیم الرحمان کی جدوجہد کی بنیادیں ہیں ۔ پیپلز پارٹی کو دھاندلی ہضم نہیں ہونے دیں گے ایک ایک سیٹ کا تحفظ کریں گے ۔ اہل کراچی کو انصاف دلوائیں گے ۔ پیپلز پارٹی چوروں ڈاکوؤں کی سرپرستی کرتے ہوئے کراچی پر قبضہ کرنا چاہتی ہے جو ناممکن ہے ۔