یورپی یونین پولینڈ اور ہنگری کی مخالفت کے باعث کسی نئے مشترکہ نقل مکانی اور پناہ کے ضابطوں پر در پیش تنازعات کو دور کرنے سے قاصر رہی ہے۔
بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں دو روزہ سربراہی اجلاس میں یورپی یونین کے رہنما نقل مکانی سے متعلق مشترکہ بیان کو قبول نہ کر سکے۔
یورپی یونین کمیشن کی طرف سے تجویز کردہ اور ماہ کے آغاز میں نمایاں اکثریت سے قبول کردہ "یکجہتی کے طریقہ کار” کے مطابق ہر یورپی یونین کے ملک میں تارکین وطن کی لازمی تقسیم اور بصورت دیگر رکن ممالک کو ہر ایک ناقابل قبول تارکین وطن کے لیے 20 ہزار یورو ادا کرنے کے ضابطے پر پولینڈ اور ہنگری نے اعتراضات اٹھائے ہیں۔
سربراہی اجلاس کے ایجنڈے پر دیگر امور پر ایک مشترکہ بیان شائع کیا گیا ہے تو نقل مکانی سے متعلق محض ایک دستاویز کو یورپی کونسل کے صدر چارلس مشیل کے دستخط کے ساتھ ہی پیش کیا جا سکا گیا ہے۔
اس دستاویز میں”واضح کیا گیا ہے کہ پولینڈ اور ہنگری نے اعلان کیا ہے کہ ایک موثر امیگریشن اور سیاسی پناہ کی پالیسی پر مفاہمت کی ضرورت ہے۔ یکجہتی کے اقدامات کے دائرہ کار میں تارکین وطن کی تقسیم رضاکارانہ بنیادوں پر ہونی چاہیے اور فراہم کردہ تعاون کو یکساں طور پر جانچا جائے۔”
سربراہی اجلاس کے اختتام کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس میں مشیل نے کہا کہ ہنگری اور پولینڈ، جنہوں نے بڑی تعداد میں یوکرینی مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے۔ چاہتے ہیں کہ نئے قوانین کو متفقہ طور پر منظور کیا جائے، نہ کہ اہل اکثریت سے۔