ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ٹی ٹی پی سے نمٹنا پاکستان کی ذمہ داری ہے،  افغان طالبان

کابل:طالبان کے سینئر رہنماء اور اقوام متحدہ میں افغان حکومت کے نامزد مندوب سہیل شاہین نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گردوں کی افغانستان میں موجودگی کی تردید کی ہے۔

سہیل  شاہین کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیم پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود ہے اور اس لیے یہ اسلام آباد کی ذمہ داری ہے، ہماری نہیں، ٹی ٹی پی افغانستان میں نہیں ہے، جیسا کہ میں نے کہا ہمارا عزم ہے کہ کسی کو بھی افغانستان کی سرزمین (عسکریت پسندی کے لیے) استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی پاکستان کے اندر قبائلی علاقوں میں ہیں، لہذا پاکستان کے اندرشرپسندوں کا ختم کرنا وہاں کی حکومت اور سیکیورٹی فورسز کی ذمہ داری ہے، ہماری نہیں۔

طالبان کے رہنما کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازعے کا ایک نکتہ ڈیورنڈ لائن بھی ہے، یہ 2,640 کلومیٹر (1,640 میل) طویل سرحد ہے جو اس وقت بنائی گئی تھی جب برصغیر پر انگریزوں کی حکومت تھی۔

سہیل شاہین نے کہاکہ 1947 میں پاکستان کی آزادی کے بعد سے آج تک یہ لائن افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد کے طور پر کام کرتی ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ ڈیورنڈ لائن دونوں ریاستوں کے درمیان سرکاری سرحد ہے، جبکہ افغانستان نے تاریخی طور پر اسے مسترد کیا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں